Bharat Express DD Free Dish

Congress government

کرناٹک حکومت کے کابینہ توسیع سے متعلق کانگریس نے 20 وزرا کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ اس میں کئی نئے چہروں کو موقع دیا گیا ہے جبکہ کئی پرانے لیڈران بھی شامل ہیں۔

کرناٹک میں نئی پالیسی کے تحت طلباء اب اسکولوں اورکالجوں میں حجاب، پگڑی، جنیو، شیودھارا اور رودراکش پہن کرجاسکیں گے، بشرطیکہ یہ مقررہ یونیفارم کی تکمیل کریں اوراس کی بنیادی روح کومتاثرنہ کریں۔

ذرائع کے مطابق پارٹی کے مرکزی آبزرور نے ترواننت پورم میں نومنتخب اراکین اسمبلی اور اتحادی جماعتوں کے لیڈروں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں حکومت سازی، قیادت اور کابینہ کی تشکیل جیسے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ کانگریس ہائی کمان وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں جلد بازی کے بجائے تمام سیاسی اور تنظیمی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

کیرلم اسمبلی انتخابات 2026 میں کانگریس کی زبردست کامیابی کے بعد ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کی تیاریاں تیز ہو گئی ہیں۔ پارٹی قیادت نے اس سلسلے میں اپنے دو سینئر لیڈروں اجے ماکن اور مکل واسنک کو مرکزی آبزرور مقرر کیا ہے، جو نو منتخب اراکین اسمبلی سے مشاورت کر کے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے رائے لیں گے۔

بچوں کے مستقبل اور ذہنی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کرناٹک حکومت نے ایک تاریخی اور انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ریاستی بجٹ 2026-27 کے دوران اعلان کیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے فیس بک، انسٹاگرام، ایکس (ٹوئٹر) اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔

کرناٹک حکومت نے ماہِ رمضان کے پیش نظر ریاست میں اردو میڈیم اسکولوں کے اوقات میں عارضی تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ریاست کی سیاست میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ حکم کے مطابق رمضان کے دوران اردو میڈیم جونیئر پرائمری اور سیکنڈری پرائمری اسکولوں کا وقت صبح 8 بجے سے دوپہر 12:45 منٹ تک مقرر کیا گیا ہے۔

کرناٹک میں کانگریس حکومت کے اندر وزیراعلیٰ کے عہدے پر رسہ کشی بڑھ گئی ہے۔ نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے سوشل میڈیا پر وعدے کی یاد دہانی کرائی، تو وزیراعلیٰ سدھارمائیا نے جواب دیتے ہوئے پورے مدت کار تک عہدے پر قائم رہنے کا اشارہ دیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ کانگریس حکومت نے 100 اضلاع کو پسماندہ قرار دے کر انہیں بھلا دیا، جبکہ ہماری حکومت نے انہی اضلاع کو ترقی کی دوڑ میں شامل کرنے کے لیے ’’آسپریشنل ڈسٹرکٹس پلان‘‘ کے تحت کام کیا۔

اس معاملے پر وکرمادتیہ سنگھ کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں یہ پورا معاملہ حساس ہے۔ ہمیں احتیاط سے آگے بڑھنا چاہئے۔ قانون کو منصفانہ طریقے سے چلنا چاہئے۔ ہم مذہب پر کسی قسم کی سیاست نہیں چاہتے۔