Bharat Express DD Free Dish

Hijab Controversy

عید میلاد النبیؐ کے موقع پر دارالسلام میں ’جلسہ رحمت للعالمین‘ سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) پر بھی شدید حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان لوگوں نے تاریخی طور پر آئین کے بجائے ’منوسمرتی‘ کو ترجیح دی ہے۔

سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید نے کہا کہ سپریم کورٹ یہ فیصلہ کرچکا ہے کہ اس معاملے میں اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے کہ کوئی مذہبی عمل کتنا ضروری ہے۔ صرف یہ طے کرنا ہے کہ ایک فرد کے بنیادی حقوق کیا ہیں، وہ کیا لباس پہننا چاہتا ہے، کیا کھانا چاہتا ہے، کہاں تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے اورکس طرح زندگی گزارنا چاہتا ہے۔

راجستھان میں اس وقت ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا جب برقعہ پوش طالبہ کونیٹ کے دوبارہ امتحان کے دوران داخلے سے منع کردیا گیا۔ امتحانی مرکزکے باہر طالبہ، اس کے اہل خانہ اور اہلکاروں کے درمیان ایک طویل بحث اور حل کی کوشش ہوئی۔

نیٹ 2026 کے لئے دوبارہ ہونے والے امتحان کے لئے ایک سینٹرپر برقع پہن کرآئی طالبہ کو انٹری نہ دینے پر جم کرہنگامہ ہوا۔ اس کے بعد این ٹی اے کی گائیڈ لائن دکھائی گئی تو کئی لوگوں نے معاملے میں دخل دیا اور پھرلڑکی کوانٹری دی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ 2022 کی پابندی نے ہزاروں طالبات اوران کے خاندانوں کوشدید ذہنی، تعلیمی اورسماجی نقصان پہنچایا۔ متعدد طالبات کوکلاس رومزمیں داخلے سے روکا گیا خاندانوں کو ہجوم کے نفرتی رویّوں کا سامنا کرنا پڑا اورطالبات کواپنے ایمان اورتعلیم کے درمیان انتخاب پرجبراً مجبورکیا گیا۔

کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارمیا نے کہا کہ ریاست کے تعلیمی اداروں میں صرف پہلے سے چلی آرہی روایات کو ہی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی نیا طریقہ متعارف نہیں کرایا جا سکتا۔

کرناٹک میں نئی پالیسی کے تحت طلباء اب اسکولوں اورکالجوں میں حجاب، پگڑی، جنیو، شیودھارا اور رودراکش پہن کرجاسکیں گے، بشرطیکہ یہ مقررہ یونیفارم کی تکمیل کریں اوراس کی بنیادی روح کومتاثرنہ کریں۔

سِول سرجن پٹنہ ڈاکٹر اویناش کمار سنگھ نے بتایا کہ ڈاکٹر نصرت پروین نے جوائن نہیں کیا ہے۔ اس سلسلے میں نہ تو ان کی طرف سے اور نہ ہی ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے کوئی رابطہ کیا گیا ہے۔

حجاب تنازع کے بعد ڈاکٹر کے نوکری جوائن کرنے پر کانگریس لیڈر غلام احمد میر نے کہا کہ اس پر اس طرح کے دلائل دیے جا رہے ہیں کہ ڈاکٹر نے ملازمت اختیار کر لی۔ اس میں غلط کیا ہے؟ ملک میں بے روزگاری ہے، اس لیے نوکری ضروری ہے۔

یہ تنازع صرف بہار تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک اور بیرونِ ملک بھی بحث کا موضوع بن گیا۔ بہار کی اپوزیشن جماعتوں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور کانگریس نے بھی نتیش کمار کو نشانہ بنایا۔ یہاں تک کہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی کر دیا۔