Bharat Express DD Free Dish

Hijab Ban

بیان میں کہا گیا کہ 2022 کی پابندی نے ہزاروں طالبات اوران کے خاندانوں کوشدید ذہنی، تعلیمی اورسماجی نقصان پہنچایا۔ متعدد طالبات کوکلاس رومزمیں داخلے سے روکا گیا خاندانوں کو ہجوم کے نفرتی رویّوں کا سامنا کرنا پڑا اورطالبات کواپنے ایمان اورتعلیم کے درمیان انتخاب پرجبراً مجبورکیا گیا۔

کرناٹک میں نئی پالیسی کے تحت طلباء اب اسکولوں اورکالجوں میں حجاب، پگڑی، جنیو، شیودھارا اور رودراکش پہن کرجاسکیں گے، بشرطیکہ یہ مقررہ یونیفارم کی تکمیل کریں اوراس کی بنیادی روح کومتاثرنہ کریں۔

اس قانون کے تحت مسلم خواتین پبلک ٹرانسپورٹ اور عوامی مقامات پر اپنے چہروں کو نہیں ڈھانپ سکتیں تاہم وہ اسکارف پہن کر اپنے بالوں اور سر کو کور کرنے کی اجازت ہے جبکہ کورونا کی وجہ سے ماسک پہننے والوں پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ممبئی یونیورسٹی سے منسلک اور ریاست مہاراشٹرا کی مدد سے چلنے والے کالج کے پاس ایسی پابندیاں عائد کرنے کی ہدایات جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اور یہ نوٹس برقرار نہیں رہ سکتا۔

مقامی میڈیا آرگنائزیشن 'رشیا ٹوڈے' کی رپورٹ کے مطابق مسلمان خواتین پاسپورٹ کی تصاویر کی وجہ سے اپنا چہرہ زیادہ ڈھانپ نہیں پاتی ہیں۔ ایسے میں نئے قانون کے تحت انہیں پاسپورٹ کے لیے سر ڈھانپ کر تصویریں استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔

راجستھان کے وزیرتعلیم مدن دلاور نے اس معاملے میں محکمہ تعلیم کو حکم دیا ہے کہ دوسری ریاستوں میں حجاب پر پابندی کے اسٹیٹس کی رپورٹ تیار کی جائے، ساتھ ہی راجستھان میں اس کا کیا اثر پرے گا، اس کی بھی رپورٹ تیار کی جائے۔

 کرناٹک کے میسورو میں وزیراعلیٰ سدارمیا نے 22 دسمبر کو تعلیمی اداروں پر عائد حجاب پابندی کو واپس لینے کی بات کہی تھی، جس کے بعد بی جے پی نے کانگریس حکومت کی تنقید کی تھی۔

 کرناٹک کے بعد اب ممبئی میں بھی حجاب پر پابندی لگادی گئی ہے۔ سیکورٹی کے پیش نظرکالج کے باہر پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ مسلم لڑکیوں نے انتظامیہ کے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔

اسکول کے پرنسپل میم روز شفیع نے اس معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ کسی کو بھی حجاب پہننے سے نہیں روکا گیا ہے، اس معاملے میں کچھ غلط فہمی ہوئی ہے۔

 دنگل گرل زائرہ وسیم حجاب پہن کر کھانا کھانے والی لڑکی کی حمایت میں اترگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ میری پسند ہے۔