Bharat Express DD Free Dish

World News in Urdu

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے عالمی تجارتی ٹیرف سے متعلق ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن سماعت کا فیصلہ آج امریکی سپریم کورٹ سنانے والی ہے۔ یہ فیصلہ بھارتی وقت کے مطابق رات تقریباً 8:30 بجے تک متوقع ہے۔ اس فیصلے کے اثرات نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی تجارت پر بھی گہرے اور دور رس ہو سکتے ہیں۔ اگر عدالتِ عظمیٰ ٹرمپ حکومت کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو امریکہ کو اب تک وصول کیے گئے اربوں ڈالر کے ٹیرف واپس کرنے پڑ سکتے ہیں، جسے ٹرمپ نے ملک کے لیے ”تباہ کن“ قرار دیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک خطرناک موڑ پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کی جانب سے سخت فوجی کارروائی کی وارننگ کے بعد قطر میں قائم امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے پر بے چینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی خارجہ اور داخلی پالیسیوں پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے، اسی دوران چین کے سرکاری میڈیا نے ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ویڈیو کے ذریعے ٹرمپ حکومت کا مذاق اڑایا ہے۔

ایران میں جاری شدید اور پرتشدد مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں پہلی مرتبہ ایرانی حکام نے کھل کر اعتراف کیا ہے کہ ملک بھر میں اب تک تقریباً 2000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان ہلاکتوں میں سیکیورٹی اہلکار اور مظاہرین دونوں شامل ہیں۔

جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے بھارت کا اپنا دو روزہ سرکاری دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا اور منگل کو وطن واپس روانہ ہو گئے۔ ان کی رخصتی کے موقع پر احمد آباد ایئرپورٹ پر گجرات کے گورنر آچاریہ دیوورت، وزیر اعلیٰ بھوپیندر بھائی پٹیل اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں، جنہوں نے انہیں الوداع کہا۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز تہران میں غیر ملکی سفارت کاروں کے ساتھ ایک اہم اجلاس کے دوران کہا کہ ملک میں پیدا ہونے والے موجودہ بحران اور خونریز تصادم کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا بڑا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی طاقتیں ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے اور ممکنہ فوجی مداخلت کا جواز بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف عوام سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہے۔ اس دوران کچھ رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ احتجاج کے دوران چھ بھارتی اور دس افغان شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے، لیکن ایران کے سفیر محمد فتح علی نے اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے۔

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل جاری ہیں، جہاں عوام ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت والی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ ملک میں گزشتہ 84 گھنٹوں سے زائد عرصے سے فون اور انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند ہے۔ امریکی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں جاری ان مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اس حوالے سے اگلی باضابطہ ملاقات منگل کو ہونے جا رہی ہے۔ یہ بات بھارت میں حال ہی میں تعینات ہونے والے امریکی سفیر سرجیو گور نے پیر کے روز نئی دہلی میں کہی۔

ایران میں جاری بڑے پیمانے پر حکومت مخالف احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر بعض ویڈیوز اور تصاویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جن میں مبینہ طور پر خواتین کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جلتی تصاویر سے سگریٹ جلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔