جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے بھارت کا اپنا دو روزہ سرکاری دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا اور منگل کو وطن واپس روانہ ہو گئے۔ ان کی رخصتی کے موقع پر احمد آباد ایئرپورٹ پر گجرات کے گورنر آچاریہ دیوورت، وزیر اعلیٰ بھوپیندر بھائی پٹیل اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں، جنہوں نے انہیں الوداع کہا۔ اس دورے کو بھارت اور جرمنی کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے فروغ کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اپنے دورے کے پہلے دن چانسلر مرز اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان گاندھی نگر کے مہاتما مندر کنونشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر میں نمائندہ سطح کی بات چیت ہوئی۔ اس ملاقات کے دوران دونوں لیڈروں نے باہمی تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور و خوض کیا اور دفاع، معیشت، تجارت، ٹیکنالوجی اور توانائی سمیت کئی شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
اس کامیاب ملاقات کے بعد وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ احمد آباد میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز کی میزبانی کرنا باعثِ مسرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ بھارت-جرمنی تعلقات میں نئی توانائی اور رفتار لے کر آیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کے 25 سال اور سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ چانسلر مرز نے ایشیا کے اپنے پہلے دورے کے لیے بھارت کا انتخاب کیا، جو دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کی علامت ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ دونوں ممالک نے دفاع، خلائی تحقیق اور دیگر اہم و ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں گہرے تعاون کے ذریعے تعلقات کو ایک نئی سطح تک لے جانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی، قابلِ اعتماد اور مضبوط سپلائی چین، اسکل ڈیولپمنٹ، تعلیم، کھیل، ثقافت اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں پر بھی تبادلۂ خیال ہوا۔
دورے کے دوران وزیر اعظم مودی اور چانسلر مرز نے سابرمتی ریور فرنٹ پر منعقد ہونے والے بین الاقوامی پتنگ میلے میں بھی شرکت کی۔ دونوں لیڈروں نے اس سالانہ ثقافتی تقریب کی رنگا رنگی، توانائی اور عوامی جوش و خروش کو قریب سے دیکھا اور خود بھی پتنگ بازی میں حصہ لیا، جس سے دوطرفہ تعلقات میں ثقافتی ہم آہنگی کا پیغام گیا۔ چانسلر مرز اور وزیر اعظم مودی نے بھارتی اور جرمن سی ای اوز کے ساتھ بھی ملاقات کی۔ وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ بھارت اور جرمنی کے درمیان قریبی تعاون پوری دنیا کے لیے اہم ہے۔ بڑھتے ہوئے تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات نے اس شراکت داری کو نئی رفتار دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دوطرفہ تجارت تاریخی سطح پر پہنچ چکی ہے اور کئی جرمن کمپنیاں بھارت میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جس سے مستقبل میں معاشی تعلقات مزید گہرے ہونے کی امید ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق پیر کے روز بھارت اور جرمنی کے درمیان تجارت، ٹیکنالوجی، صحت اور قابلِ تجدید توانائی سمیت مختلف شعبوں میں مجموعی طور پر 19 معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ ان معاہدوں اور پالیسی اعلانات کا مقصد اسٹریٹجک، اقتصادی اور عوامی سطح پر تعاون کو مزید وسعت دینا ہے۔ دونوں لیڈروں نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں مسلسل اضافے کی تعریف کی اور کہا کہ 2024 میں یہ تجارت ریکارڈ سطح پر پہنچی، جبکہ 2025 میں بھی اس مثبت رجحان کے جاری رہنے کی توقع ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں بھارت اور جرمنی کے درمیان اشیا اور خدمات کی تجارت 50 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو یورپی یونین کے ساتھ بھارت کی مجموعی تجارت کا 25 فیصد سے زیادہ ہے۔ ایک مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے جرمن-انڈین سی ای او فورم کے ذریعے اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مشترکہ اعلامیے کا خیر مقدم کیا۔ اس کے ساتھ ہی سیمی کنڈکٹر، اہم معدنیات، ڈیجیٹلائزیشن، ٹیلی کمیونی کیشن، صحت اور بایو اکانومی جیسے شعبوں میں تعاون میں ہونے والی پیش رفت کو بھی سراہا گیا، جو اختراع اور ٹیکنالوجی شراکت داری کے روڈ میپ کو مضبوط بناتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

