Bharat Express DD Free Dish

India-Germany

وزیر اعظم نریندر مودی نے جی-7 سربراہی اجلاس کے دوران جرمنی کے چانسلر فریڈرش مرز کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو انتہائی مثبت قرار دیا۔ دونوں لیڈروں کے درمیان بھارت اور جرمنی کے دوطرفہ تعلقات کو نئی رفتار دینے، اقتصادی تعاون بڑھانے، تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، ٹیکنالوجی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔

جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے بھارت کا اپنا دو روزہ سرکاری دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا اور منگل کو وطن واپس روانہ ہو گئے۔ ان کی رخصتی کے موقع پر احمد آباد ایئرپورٹ پر گجرات کے گورنر آچاریہ دیوورت، وزیر اعلیٰ بھوپیندر بھائی پٹیل اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں، جنہوں نے انہیں الوداع کہا۔

وزیر اعظم مودی نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کی موجودگی میں بھارت اور جرمنی کے درمیان طے پانے والے ایک نئے میگا پروجیکٹ کو مستقبل کی توانائی کے لیے گیم چینجر قرار دیا ہے۔ دو طرفہ مذاکرات کے بعد منعقد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دونوں ممالک کے درمیان ہوئے متعدد اہم معاہدوں اور شراکت داریوں کی تفصیل بیان کی۔

وزیر اعظم مودی اور جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے دو طرفہ مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

جرمن سفیر فلپ ایکرمین نے کہاکہ یہ ہمارے دوطرفہ تعلقات کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔ جرمنی میں تقریباً 50,000 بھارتی طلبہ ہیں، جو کسی بھی ملک سے آنے والے غیر ملکی طلبہ کا سب سے بڑا گروپ ہیں۔

جرمن چانسلر اولاف شولز نے 18ویں ایشیا پیسفک جرمن بزنس کانفرنس (اے پی کے  2024)) میں شرکت سے قبل جمعہ کو وزیر اعظم نریندر مودی سے ان کی سرکاری رہائش گاہ لوک کلیان مارگ پر ملاقات کی۔

چانسلر اولاف شولز کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب جرمنی کی برآمدات پر مبنی معیشت مسلسل دوسرے سال کساد بازاری سے گزر رہی ہے۔ اس کے ساتھ یورپی یونین اور چین کے درمیان تجارتی تنازع کے خدشات بھی ہیں جس سے جرمن کمپنیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔