وزیر اعظم نریندر مودی نے جی-7 سربراہی اجلاس کے دوران جرمنی کے چانسلر فریڈرش مرز کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو انتہائی مثبت قرار دیا۔ دونوں لیڈروں کے درمیان بھارت اور جرمنی کے دوطرفہ تعلقات کو نئی رفتار دینے کے لیے تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ بات چیت کا مرکز تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، انفارمیشن ٹیکنالوجی، گرین ڈیولپمنٹ اور ثقافتی تبادلوں سمیت کئی اہم شعبے رہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور جرمنی کے تعلقات محض اقتصادی شراکت داری تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک جمہوری اقدار، اختراع اور پائیدار ترقی کے مشترکہ وژن سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے درمیان دونوں ممالک باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنا کر نئی مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
بھارت اور جرمن کمپنیوں کے درمیان تعاون بڑھانے پر گفتگو
تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں دونوں لیڈروں نے بھارتی اور جرمن کمپنیوں کے درمیان تعاون بڑھانے پر گفتگو کی۔ جرمنی طویل عرصے سے بھارت کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے اور آٹوموبائل، انجینئرنگ، مینوفیکچرنگ اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں جرمن سرمایہ کاری نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہے۔ دونوں فریقوں نے صنعتی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانے اور سپلائی چین کو مزید مضبوط اور قابلِ اعتماد بنانے پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ملاقات میں سرکلر اکانومی، وسائل کے مؤثر استعمال اور فضلے کے بہتر انتظام کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تحفظ کے عالمی چیلنجز کے پیشِ نظر دونوں ممالک صاف توانائی، گرین ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی کے میدان میں شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔
دونوں لیڈروں نے دفاعی شعبے پر بھی بات چیت کی
دفاعی تعاون بھی مذاکرات کا ایک اہم موضوع رہا۔ دونوں لیڈروں نے دفاعی پیداوار، تکنیکی اشتراک اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے امکانات پر غور کیا۔ بدلتی ہوئی عالمی سلامتی کی صورتحال میں بھارت اور جرمنی قواعد پر مبنی عالمی نظام اور استحکام کے حامی ہیں، جس کے باعث دفاعی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبے میں بھی دونوں ممالک نے مشترکہ لائحہ عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ بھارت کی ڈیجیٹل صلاحیتوں اور جرمنی کی جدید تکنیکی مہارت کو یکجا کرکے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی، ہنرمندی کی ترقی اور تحقیق کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ دونوں لیڈروں نے ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ طلبہ کے تبادلے کے پروگراموں، تعلیمی تعاون، سیاحت اور ثقافتی تقریبات کے ذریعے عوامی روابط کو فروغ دینے پر بھی بات چیت ہوئی، جس سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان باہمی اعتماد اور ہم آہنگی کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔ بھارت اور جرمنی کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل مستحکم ہوتے آئے ہیں۔ سال 2000 میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا آغاز ہوا تھا، جسے وقت کے ساتھ مزید وسعت دی گئی۔ جرمنی یورپ میں بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ بھارت جرمنی کے لیے ایشیا میں ایک اہم اقتصادی اور تزویراتی ساتھی کی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک موسمیاتی تبدیلی، صاف توانائی، ہنرمندی کی ترقی، سائنس و ٹیکنالوجی اور عالمی حکمرانی میں اصلاحات جیسے موضوعات پر قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


