Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump Tariffs: ٹرمپ ٹیرف پر امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ آج، ہار کی صورت میں واپس کرنے ہوں گے اربوں ڈالر، ٹرمپ کا انتباہ— ایسا نہ ہو، ورنہ امریکہ تباہ ہو جائے گا

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے عالمی تجارتی ٹیرف سے متعلق ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن سماعت کا فیصلہ آج امریکی سپریم کورٹ سنانے والی ہے۔ یہ فیصلہ بھارتی وقت کے مطابق رات تقریباً 8:30 بجے تک متوقع ہے۔ اس فیصلے کے اثرات نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی تجارت پر بھی گہرے اور دور رس ہو سکتے ہیں۔ اگر عدالتِ عظمیٰ ٹرمپ حکومت کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو امریکہ کو اب تک وصول کیے گئے اربوں ڈالر کے ٹیرف واپس کرنے پڑ سکتے ہیں، جسے ٹرمپ نے ملک کے لیے ”تباہ کن“ قرار دیا ہے۔

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے عالمی تجارتی ٹیرف سے متعلق ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن سماعت کا فیصلہ آج امریکی سپریم کورٹ سنانے والی ہے۔ یہ فیصلہ بھارتی وقت کے مطابق رات تقریباً 8:30 بجے تک متوقع ہے۔ اس فیصلے کے اثرات نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی تجارت پر بھی گہرے اور دور رس ہو سکتے ہیں۔ اگر عدالتِ عظمیٰ ٹرمپ حکومت کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو امریکہ کو اب تک وصول کیے گئے اربوں ڈالر کے ٹیرف واپس کرنے پڑ سکتے ہیں، جسے ٹرمپ نے ملک کے لیے ”تباہ کن“ قرار دیا ہے۔ فیصلے سے قبل صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر سپریم کورٹ نے ان کے نافذ کردہ ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا تو امریکہ مکمل طور پر مشکلات میں گھِر جائے گا۔ انہوں نے لکھا کہ ایسی صورت میں ”ملک برباد ہو جائے گا“ اور صورتحال “WE’RE SCREWED” جیسی ہو جائے گی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان ٹیرف کے ذریعے امریکہ کو سیکڑوں ارب ڈالر کی آمدنی حاصل ہوئی ہے اور اگر یہ رقم واپس کرنی پڑی تو نہ صرف حکومتی خزانہ متاثر ہوگا بلکہ سرمایہ کاری اور معاشی استحکام بھی شدید دباؤ میں آ جائے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق اپریل 2025 میں دنیا کے بیشتر ممالک سے درآمد ہونے والی اشیاء پر سخت ٹیرف عائد کیے گئے تھے۔ ان میں 10 فیصد کا بنیادی ٹیرف اور بعض ممالک پر اس سے کہیں زیادہ شرح شامل تھی۔ ٹرمپ نے ان اقدامات کو قومی سلامتی سے جوڑا اور مؤقف اختیار کیا کہ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ اور غیر ملکی اشیاء پر انحصار امریکہ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیرف سے مقامی صنعتوں کو تحفظ ملتا ہے اور بیرونی مصنوعات مہنگی ہو کر امریکی کمپنیوں کو مسابقت میں فائدہ دیتی ہیں۔ ان ٹیرف کو نافذ کرنے کے لیے صدر ٹرمپ نے 1977 کے ”انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ“ (آئی ای ای پی اے) کا سہارا لیا۔ یہ قانون صدر کو کسی ہنگامی صورتحال، جیسے جنگ یا شدید معاشی بحران کے دوران، غیر ملکی لین دین اور تجارت پر کنٹرول کا اختیار دیتا ہے۔ ٹرمپ نے تجارتی خسارے کو ایک قومی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے اسی قانون کے تحت ٹیرف نافذ کیے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون میں واضح طور پر ”ٹیرف“ کا ذکر نہیں ہے، جس کی وجہ سے اس اقدام کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

ٹرمپ کے ان ٹیرف کے خلاف امریکہ کی 12 ریاستوں اور متعدد چھوٹے کاروباری اداروں نے عدالت میں چیلنج دائر کیا تھا۔ ان ریاستوں میں ایریزونا، نیویارک، الینوائے سمیت کئی بڑے نام شامل ہیں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ ٹیرف عائد کرنا آئینی طور پر کانگریس کا اختیار ہے اور صدر نے اپنی آئینی حدود سے تجاوز کیا ہے۔ نچلی عدالتوں نے اس معاملے میں ٹرمپ حکومت کے خلاف فیصلے دیے تھے، جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔ نومبر 2025 میں سپریم کورٹ میں اس کیس کی طویل سماعت ہوئی، جس کے دوران ججوں نے حکومت سے سخت سوالات کیے۔ عدالت نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا ”انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ“ (آئی ای ای پی اے) جیسے قانون کے تحت اتنے وسیع اور طویل المدت ٹیرف لگانا واقعی صدر کے اختیارات میں آتا ہے یا نہیں۔ سماعت کے دوران کئی ججوں نے حکومت کے دلائل پر شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق اگر سپریم کورٹ ٹرمپ کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو اس سے مستقبل میں صدر کو ہنگامی اختیارات کے نام پر بڑے تجارتی فیصلے کرنے کی وسیع آزادی مل جائے گی اور کانگریس کی منظوری کے بغیر عالمی تجارت پر اثر ڈالنا ممکن ہو سکے گا۔ اس کے برعکس اگر عدالت ٹیرف کو منسوخ کرتی ہے تو صدارتی اختیارات کی حدود واضح اور محدود ہو جائیں گی۔ ایسی صورت میں حکومت کو اب تک وصول کیے گئے تقریباً 130 سے 150 ارب ڈالر یا اس سے بھی زیادہ کی رقم واپس کرنی پڑ سکتی ہے، جس سے درآمدات میں اضافہ اور معیشت میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔ یہ معاملہ محض ٹیرف یا تجارت تک محدود نہیں ہے بلکہ اس فیصلے سے امریکہ میں صدر کی طاقت اور آئینی حدود کا تعین بھی ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا قومی ایمرجنسی کے نام پر کوئی بھی بڑا معاشی فیصلہ یکطرفہ طور پر لیا جا سکتا ہے؟ آج آنے والا فیصلہ نہ صرف ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کا مستقبل طے کرے گا بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کے تجارتی تعلقات پر بھی گہرا اثر ڈالے گا۔ تمام نگاہیں اب امریکی سپریم کورٹ پر مرکوز ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read