Bharat Express DD Free Dish

US tariffs issue

اب سب کی نظریں امریکی ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ پر ہیں۔ اس کے بعد ہی واضح ہوگا کہ مجوزہ ٹیرف کی حتمی شکل کیا ہوگی اور بھارت پر اس کا براہِ راست کتنا اثر پڑ سکتا ہے۔

امریکہ نے بھارت پر دو مرحلوں میں ٹیرف عائد کیا تھا۔ پہلے 25فیصد ٹیرف لگایا گیا، اور پھر روس سے تیل خریدنے پر مزید 25فیصد کا ٹیرف عائد کر دیا گیا تھا۔

روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی امریکی دھمکیوں کے درمیان بھارت کے لیے واشنگٹن سے ایک بڑی راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ امریکہ کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مجوزہ سخت تجارتی پالیسی کا اصل ہدف بھارت نہیں بلکہ چین ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے عالمی تجارتی ٹیرف سے متعلق ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن سماعت کا فیصلہ آج امریکی سپریم کورٹ سنانے والی ہے۔ یہ فیصلہ بھارتی وقت کے مطابق رات تقریباً 8:30 بجے تک متوقع ہے۔ اس فیصلے کے اثرات نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی تجارت پر بھی گہرے اور دور رس ہو سکتے ہیں۔ اگر عدالتِ عظمیٰ ٹرمپ حکومت کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو امریکہ کو اب تک وصول کیے گئے اربوں ڈالر کے ٹیرف واپس کرنے پڑ سکتے ہیں، جسے ٹرمپ نے ملک کے لیے ”تباہ کن“ قرار دیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر بھاری 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ بھارتی برآمدات کو بڑا دھچکا لگے گا، لیکن نومبر کے تازہ اعداد و شمار نے اس سوچ کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ دو ماہ کی مسلسل گراوٹ کے بعد بھارت نے امریکی منڈی میں شاندار واپسی کی ہے اور برآمدات میں اچانک 22 فیصد سے زائد اضافہ درج کیا گیا ہے۔

صدرٹرمپ کا مؤقف تھا کہ بھارت روسی تیل کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے۔ جس سے یوکرین جنگ کے لیے ماسکو کو مالی مدد مل رہی ہے۔ ان پالیسیوں کے نفاذ کے لیے ٹرمپ نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کا سہارا لیا تھا۔

آڈیو کو استعمال کرتے ہوئے کینیڈا نے ایک اشتہار جاری کیا، جس میں ٹرمپ کے ٹیرف پالیسی کی مخالفت کی گئی۔ کینیڈا نے کہا کہ 25 تا 35 فیصد ٹیرف لگانا معاشی خودکشی کے مترادف ہے جو دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات کو نقصان پہنچائے گا۔

بارکلیز کا اندازہ ہے کہ تقریباً 55 بلین ڈالر کی ہندوستانی برآمدات، تقریباً 70 فیصد امریکہ کو بھیجی جانے والی برآمدات، اب براہ راست خطرے میں ہیں۔ الیکٹریکل مشینری، جواہرات اور زیورات، ملبوسات اور مشینری کو تیز ترین اضافے کا سامنا ہے، جبکہ اسمارٹ فونز، پیٹرولیم مصنوعات اور دواسازی عارضی طور پر مستثنیٰ ہیں۔

سیکشن 232 کی تحقیقات کے حصے کے طور پر فی الحال سیکٹر کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ عام ادویات امریکہ میں سستی ہیلتھ کیئر کے لیے اہم ہیں اور عام طور پر بہت کم منافع کے مارجن پر چلتی ہیں۔ مریض کے علاج کے لیے ان کی مستقل دستیابی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

ریاستہائے متحدہ میں داخل ہونے والے ہندوستانی سامان پر 50 فیصد کا بھاری ٹیرف، جو 27 اگست سے نافذ ہوا ہے، 48 بلین ڈالر سے زیادہ کی برآمدات کو متاثر کرے گا۔ جن شعبوں پر ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے عائد کردہ اعلیٰ درآمدی محصولات کا نقصان ہو گا ان میں ٹیکسٹائل/کپڑے، جواہرات اور زیورات، جھینگا، چمڑے اور جوتے، جانوروں کی مصنوعات، کیمیکلز، اور الیکٹریکل اور مکینیکل مشینری شامل ہیں۔