روس سے خام تیل خریدنے والے ممالک پر امریکہ کی جانب سے 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کی مجوزہ تجویز کے درمیان بھارت نے اپنا موقف واضح کردیا ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات اور عام شہریوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرتا ہے اور مستقبل میں بھی اسی بنیاد پر اپنی پالیسی طے کرے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکی دباؤ کے باوجود روس سے تیل خریدنے کے معاملے میں بھارت اپنی پالیسی تبدیل کرنے کے کوئی اشارے نہیں دے رہا۔
امریکہ میں نئے قانون کی کارروائی آگے بڑھی
امریکہ میں روس اور ایران کے خلاف مجوزہ نئے قانون پر کارروائی آگے بڑھ رہی ہے۔ امریکی سینیٹ اسے 86-11 کی بھاری اکثریت سے منظور کرچکی ہے۔ اب بل ایوانِ نمائندگان میں پیش کیا جارہا ہے، جہاں 17 ستمبر کو اس پر ووٹنگ متوقع ہے۔ اگر یہ بل قانون بن جاتا ہے تو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کی شق نافذ ہوسکتی ہے۔
وزارت خارجہ نے کیا کہا؟
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کو کہا کہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات سے متعلق فیصلے ملک کے 140 کروڑ عوام کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتا آیا ہے۔ ان کے بیان سے اشارہ ملتا ہے کہ مستقبل میں بھی بھارت اسی پالیسی پر قائم رہ سکتا ہے۔ بھارتی سرکاری ذرائع کا بھی کہنا ہے کہ حکومت پورے معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم فی الحال روس سے تیل خریدنے کی پالیسی میں تبدیلی کے کوئی اشارے نہیں ہیں۔ بھارت کے لیے روس سے حاصل ہونے والا خام تیل توانائی کی ضروریات اور درآمدی لاگت کے اعتبار سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
بل میں بھارت کا نام شامل کرنے کا مطالبہ
دریں اثنا، کچھ امریکی ارکانِ پارلیمنٹ نے مجوزہ قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روس سے تیل خریدنے والے اہم ممالک کے نام قانون میں واضح طور پر درج کیے جائیں۔ اس فہرست میں بھارت اور چین کے علاوہ ترکی، آذربائیجان، ہنگری، سلوواکیہ، متحدہ عرب امارات، سنگاپور، قازقستان اور کرغیزستان جیسے ممالک کے نام شامل کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اب سب کی نظریں امریکی ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ پر ہیں۔ اس کے بعد ہی واضح ہوگا کہ مجوزہ ٹیرف کی حتمی شکل کیا ہوگی اور بھارت پر اس کا براہِ راست کتنا اثر پڑ سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



