امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔
نئی دہلی: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کینیڈا کے ایک اشتہار کو دیکھ کر اس قدر برہم ہو گئے کہ انہوں نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات فوراً روک دینے کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ نے یہ اطلاع اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ‘ پر دی۔
75 ملین ڈالر کا تھا کینیڈا کا اشتہار
ٹرمپ نے لکھا، “رونالڈ ریگن فاؤنڈیشن نے ابھی اعلان کیا ہے کہ کینیڈا نے دھوکہ دہی سے ایک اشتہار کا استعمال کیا ہے، جوکہ فرضی ہے۔ اس اشتہار میں رونالڈ ریگن ٹیرف کے بارے میں منفی باتیں کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ اشتہار 75 ملین ڈالر کا تھا۔”
عدالتی فیصلوں پر اثر ڈالنے کی کوشش
انہوں نے مزید کہا، ’’یہ سب صرف امریکی سپریم کورٹ اور دیگر عدالتوں کے فیصلوں پر اثر ڈالنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ٹیرف امریکہ کی قومی سلامتی اور معیشت کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ اس گھناؤنی حرکت کی بنیاد پر، کینیڈا کے ساتھ تمام تجارتی بات چیت ختم کی جاتی ہے۔ اس معاملے پر توجہ دینے کے لیے آپ کا شکریہ۔”
امریکہ اور کینیڈا کے بیچ بڑھی کشیدگی
اس واقعے کے بعد ایک بار پھر امریکہ اور کینیڈا کے درمیان کشیدگی بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ اور سابق کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے درمیان تعلقات میں تناؤ دیکھا گیا تھا۔
یہ اشتہار کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو کی حکومت کی مالی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔ اس میں امریکہ کے سابق صدر رونالڈ ریگن کے 1987 کے ایک خطاب کے آڈیو کلپ کا استعمال کیا گیا۔
ریگن فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ اس تقریر کے استعمال کے لیے ان سے اجازت نہیں لی گئی تھی اور اسے گمراہ کن انداز میں ایڈٹ کیا گیا ہے۔ فاؤنڈیشن نے بتایا کہ وہ اس معاملے میں قانونی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔
جس آڈیو کلپ پر تنازعہ کھڑا ہوا، اس میں سابق صدر ریگن ٹیرف کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ٹیرف امریکی معیشت کو کمزور کرتے ہیں، روزگار چھینتے ہیں اور صارفین پر بوجھ ڈالتے ہیں۔
اسی آڈیو کو استعمال کرتے ہوئے کینیڈا نے ایک اشتہار جاری کیا، جس میں ٹرمپ کے ٹیرف پالیسی کی مخالفت کی گئی۔ کینیڈا نے کہا کہ 25 تا 35 فیصد ٹیرف لگانا معاشی خودکشی کے مترادف ہے جو دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات کو نقصان پہنچائے گا۔
فی الحال، امریکہ نے کینیڈا پر 35 فیصد درآمدی ٹیکس نافذ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ-میکسیکو-کینیڈا معاہدے (USMCA) کے تحت کچھ چیزوں پر چھوٹ بھی دی گئی ہے، جبکہ دھاتوں اور آٹوموبائل سیکٹرز پر الگ الگ ٹیرف عائد ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
