Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Bill

وقف بورڈ اور وقف ترمیمی بل اس وقت پورے ملک میں خبروں میں ہے۔ چائے کے اسٹال سے لے کر پارلیمنٹ تک میں اس پر بحث جاری ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ یہ بل کابینہ کے پاس ہونے کے بعد ہی ایوان میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بل پیش کرنے سے پہلے اسے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو بھیجا گیا،

وقف ترمیمی بل 2024 لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ بل پربحث کے لئے 8 گھنٹے کا وقت متعین کیا گیا ہے۔ راجیہ سبھا میں کل یعنی جمعرات کو اس بل پر بحث کے لئے 8 گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے۔ تاہم اپوزیشن پارٹیاں پوری طرح سے اس بل کے خلاف ہیں اوروہ ایوان کے اندراور باہرہنگامہ کر رہی ہیں۔

پرمود تیواری نے وقف ترمیمی بل پر کہا ہے کہ یہ بل غیر آئینی ہے۔ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے اس لیے یہ بل لا رہی ہے۔ انہوں نے اسے ملک کی یکجہتی اور سالمیت کو توڑنےوالا بل قرار دیا۔

اے آئی ایم آئی ایم دہلی کے ریاستی صدر Shoaib Jamai نے کہا کہ اگر وقف بل کو زبردستی مسلمانوں پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک گیر تحریک ہوگی اور اس کی شروعات دہلی سے ہوگی۔ "تحریک وہیں سے شروع ہو گی جہاں پچھلی بار ختم ہوئی تھی۔"

مسلم کمیونٹی کے اندر کچھ سیاسی اداروں اور مفاد پرست عناصر کی جانب سے بدامنی پھیلانے کے لیے جان بوجھ کر غلط اطلاعات پھیلانے کے ساتھ ، وقف ترمیمی بل 2024 کو سلگتے تنازعات کا ایک موضوع بنایا جارہا ہے۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں اعلان کیا ہے کہ حکومت موجودہ بجٹ اجلاس کے دوران وقف ترمیمی بل پیش کرے گی۔ اس بل کے تحت زمین کے تنازعات کو حل کرنے کا حق صرف عدالتوں کو دیا جائے گا، اس طرح شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جائے گا۔

تمل ناڈو اسمبلی نے جمعرات کو متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کر لی ہے جس میں مرکز پر زور دیا گیا ہے کہ وہ وقف ترمیمی بل 2024 کو واپس لے۔ منظور شدہ قرارداد میں اس ترمیمی بل کو ’’مسلمانوں کے مذہبی انتظام میں مداخلت کی ایک اور کوشش‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

تیجسوی یادو نے کہا کہ یہ بل آئین کے خلاف بل ہے، ہم نے اس کے خلاف پارلیمنٹ سے لیکر اسمبلی تک آواز اٹھائی ہے ،آپ کی اس لڑائی میں ہم ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہیں ،، اس لڑائی میں ہر کسی کو ایک ساتھ آنا ہوگا۔

جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ 428 صفحات پر مشتمل رپورٹ کو بغیر تفصیلی بحث کے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) میں زبردستی پاس کیا گیا، جو پارلیمانی طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ بل بنیادی طور پر ہندوستان کے آئین پر حملہ ہے‘‘۔