Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Bill

 سونیا گاندھی نے دعویٰ کیاکہ کل وقف ترمیمی بل، 2025 لوک سبھا میں منظور ہوا اور آج اسے راجیہ سبھا میں پیش کیا جا رہا ہے۔ بل کو من مانی طور پر منظور کر الیا گیا۔ ہماری پارٹی کا موقف واضح ہے۔ یہ بل خود آئین پر ایک کھلا حملہ ہے۔

جو پارٹیاں راجیہ سبھا میں این ڈی اے کے ساتھ ہیں، ان میں اپیندر کشواہا کی راشٹریہ لوک مورچہ سے ایک ایم پی، پتالی مکل کچی، تمل منیلا کانگریس، نیشنل پیپلز پارٹی، رامداس اٹھاولے کی ریپبلکن پارٹی آف انڈیا سے ایک ایک ایم پی اور دو آزاد ایم پی شامل ہیں۔

کانگریس کے سابق صدراور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس قانون کی سختی سے مخالفت کرتی ہے کیونکہ یہ ہندوستان کے بنیادی خیال پر حملہ کرتا ہے اور مذہبی آزادی کے حق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

شرومنی اکالی دل کی رکن پارلیمنٹ ہرسمرت کور بادل نے بل کی مخالفت کی اور بی جے پی کو اصلی 'ٹکڑے-ٹکڑے' گینگ قرار دیا اور کہا کہ یہ حکومت لوگوں کو مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کر رہی ہے۔

وقف ترمیمی بل 2024 پرآج لوک سبھا میں بحث ابھی تک جاری ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ سے قانون بننے کے بعد اسے ماننا ہی پڑے گا۔ 

وقف ترمیمی بل پرلوک سبھا میں بحث کے دوران آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈراور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بل کی کاپی کوپھاڑ دیا۔ انہوں نے احتجاج کے طورپربل کی کاپی کو پھاڑا ہے۔ اویسی نے کہا کہ حکومت کی منمانی ہے اوریہ بل پوری طرح سے غیر آئینی ہے۔

یہ قانون اسلامی اصولوں کے مطابق بنایا گیا تھا اور اس میں مجوزہ ترمیم اسلامی روایات اور ثقافت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ یہ اقدام مسلمانوں کے حقوق سلب کرنے کی کوشش ہے، جو سراسر غیر آئینی ہے: کلیان بنرجی

میر واعظ نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے مسلم تنظیموں کی طرف سے پیش کیے گئے کسی بھی خدشے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ہے۔

اس سے پہلے کانگریس نے تین سطری اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اپنے تمام لوک سبھا ممبران پارلیمنٹ کو 2 اپریل سے 4 اپریل تک ایوان میں موجود رہنے کی ہدایت کی تھی۔

وقف ترمیمی بل پر لوک سبھا میں بحث کے دوران عمران مسعود نے کہا ’’آج وہ لوگ بول رہے ہیں، جو وقف کا مطلب بھی نہیں سمجھتے ہیں۔ وقف کو مسلمان ہی سمجھتا ہے اور جانتا ہے۔‘‘