Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Bill

وقف ترمیمی بل کے پارلیمنٹ سے منظورہونے کے بعد اسے لے کرسیاسی بیان بازی تیزہوگئی ہے۔ بی جے پی لیڈران کا کہنا ہے کہ یہ بل مسلمانوں خاص طورپرغریبوں کے مفاد میں ہے، جبکہ اپوزیشن اسے لے کرلوگوں کو گمراہ کررہا ہے۔

جے ڈی یو کے کئی لیڈران پہلے ہی پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کرچکے ہیں۔ اب کارکنان اورعہدیداربھی پارٹی چھوڑرہے ہیں۔ اس کا نقصان نتیش کمارکوآئندہ بہاراسمبلی الیکشن میں ہوسکتا ہے۔

وقف ترمیمی بل کی منظوری کے بعد راہل گاندھی نے حکومت پرحملہ کرتے ہوئے اسے مسلمانوں پرحملہ قراردیا ہے اور مستقبل میں دیگر برادریوں کو نشانہ بنانے کا اندیشہ ظاہرکیا ہے۔ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے اس بل پرسخت اعتراض کیا ہے اور سپریم کورٹ جانے کی بات کی ہے۔

اترپردیش کے مظفر نگر میں وقف (ترمیمی) بل، 2025 کی مخالفت میں کالی پٹی پہن کر احتجاج کرنے والے 24 لوگوں کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ مظاہرین کو 2-2 لاکھ روپئے کا بانڈ بھرنے کا حکم دیا ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پرکئی اورلوگوں کی بھی پہچان کی ہے۔

سنہا نے کہا، "یہ ہندوستان ہے، پاکستان نہیں، لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل پاس ہونے کے بعد بھی جو لوگ اسے قبول نہ کرنے کی بات کر رہے ہیں، وہ ملک دشمن ہیں، ایسے لوگوں کو فوراً گرفتار کر کے جیل میں ڈال دینا چاہیے۔"

وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ سے منظوری ملنے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، ملی  تنظیمیں اورہزاروں مسلمانوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ وہیں آل انڈیا مسلم جماعت نے بل کی حمایت کی ہے۔

وقف ترمیمی بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے اس بل کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا ہے۔

سنجے نروپم نے وقف ترمیمی بل پرشیوسینا (یوبی ٹی) کی مخالفت کومسلم ووٹ بینک کی سیاست قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ ادھوٹھاکرے نے ہندوؤں کو نظراندازکرکے کانگریس کی راہ پکڑلی۔

لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل پاس ہونے کے بعد مغربی بنگال میں وقف جائیداد سے متعلق بڑا تنازعہ چھڑگیا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایڈن گارڈن، فورٹ ولیم اورعلی پورچڑیا گھرجیسے اہم مقامات وقف کا حصہ ہیں۔ مرکزی حکومت نے مغربی بنگال میں 80,548 وقف جائیداد کی جانکاری دی ہے، جن میں سے کئی کا استعمال تعلیم اورصحت کے میدان میں ہو رہا ہے۔

اب تک محمد تبریز صدیقی علی گڑھ سمیت چھ لیڈر پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔مانا یہ بھی جارہا ہے کہ پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری غلام رسول بلیاوی بھی پارٹی چھوڑ سکتے ہیں چونکہ انہوں نے بغاوت کا سر بلند کردیا ہے۔