تمل ناڈو اسمبلی نے جمعرات کو متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کر لی ہے جس میں مرکز پر زور دیا گیا ہے کہ وہ وقف ترمیمی بل 2024 کو واپس لے۔ منظور شدہ قرارداد میں اس ترمیمی بل کو ’’مسلمانوں کے مذہبی انتظام میں مداخلت کی ایک اور کوشش‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے سٹالن نے کہا کہ وقف قانون میں مجوزہ تبدیلیاں ’’مسلم اقلیتوں کو شدید طور پر متاثر کریں گی۔‘‘
حکومت اقلیتوں کے ساتھ ’’منظم امتیازی سلوک‘‘ کر رہی ہے: اسٹالن
ڈی ایم کے سربراہ اور وزیر اعلیٰ اسٹالن نے بی جے پی کی مرکزی حکومت پر اقلیتوں کے خلاف ’’منظم امتیازی سلوک‘‘ کرنے کا الزام بھی لگایا۔ اسٹالن نے کہا ’’چاہے وہ شہریت ترمیمی قانون ہو، ہندی زبان کا نفاذ ہو، غیر بی جے پی ریاستوں کے خلاف مالی امتیاز ہو، یا NEET اور NEP [قومی تعلیمی پالیسی] جیسی سماجی انصاف کی پالیسیاں – مرکزی حکومت کی ہر کارروائی مخصوص برادریوں کو نشانہ بناتی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا ’’یہ قانون وقف املاک پر حکومت کے اختیارات میں اضافہ کرتا ہے اور ان کی خود مختاری کو مجروح کرتے ہوئے آئین کے ذریعہ فراہم کردہ بنیادی حقوق کے لیے خطرہ پیدا کرتا ہے۔‘‘
پارلیمانی کمیٹی نے حزب اختلاف کی تجاویز رد کیں
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تمل ناڈو نے پہلےبھی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے اس بل کی مخالفت کی تھی لیکن اس کے خدشات کو نظر انداز کر دیا گیا، جس سے ریاست کے پاس اسمبلی میں اس کی باضابطہ مخالفت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔ واضح رہے کہ اگست میں حزب اختلاف اور مسلم تنظیموں کے اعتراضات کے بعد اس بل کو جانچ کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیجا گیا تھا۔ 29 جنوری کو پارلیمانی کمیٹی نے ووٹنگ کے بعد نظرثانی شدہ بل کو منظور کر لیا، جب اس کی مسودہ رپورٹ کے حق میں 15 اور مخالفت میں 11 ووٹ آئے۔ تاہم پارلیمانی کمیٹی نے این ڈی اے کے اراکین کی تجاویز تو قبول کر لی ہیں، تاہم حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی کی پیش تجویزیں مسترد کر دی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

