Bharat Express DD Free Dish

MK STALIN

 لوک سبھا میں ڈی ایم کے اب کانگریس کے ساتھ نہیں بیٹھے گی۔ تمل ناڈو میں کانگریس کے ٹی وی کے سے اتحاد کے بعد دونوں پارٹیوں کے پرانے تعلقات ختم ہوگئے ہیں۔ ڈی ایم کے نے لوک سبھا سکریٹریٹ سے الگ بیٹھنے کا مطالبہ کیا تھا، جسے منظورکرلیا گیا ہے۔ وہیں پارٹی نے انڈیا الائنس کی میٹنگ میں بھی شامل نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

سماجوادی پارٹی کے قومی صدراکھلیش یادو نے تمل ناڈو کے کارگزار وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن اورمغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ کی تصاویرشیئر کی ہیں۔ اس کے ساتھ کافی دلچسپ کیپشن بھی دیا ہے۔

انتخابات میں اسٹالن کو ذاتی طور پر بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔ وہ اپنی روایتی کولاتھور نشست سے شکست کھا گئے، جہاں انہیں وی ایس بابو نے ہرایا۔ یہ نتیجہ ریاستی سیاست میں بڑی تبدیلی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق کسی موجودہ وزیر اعلیٰ کی اپنی نشست سے شکست ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

ابتدائی رجحانات کے بعد ڈی ایم کے کے حامی مایوسی کے عالم میں پارٹی دفتر سے واپس لوٹتے نظر آئے، جبکہ ٹی وی کے کی بڑھتی ہوئی برتری نے ریاست کی سیاست میں ایک نئے دور کی نشاندہی کر دی ہے۔ تاہم حتمی نتائج آنے تک صورتحال میں تبدیلی کا امکان برقرار ہے۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ نے حالاں کہ نائب صدر جگدیپ دھنکھر کا نام نہیں لیا، لیکن ان کا یہ بیان سپریم کورٹ کے فیصلے پر دھنکھر کے بیان کے پس منظر میں ہی آیا ہے۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وقف ترمیمی قانون کے خلاف مغربی بنگال، تمل ناڈو اور کرناٹک کے وزرائے اعلیٰ کے ’’جرات مندانہ اور اصولی موقف‘‘ کے لیے شکریہ ادا کیا۔

وقف ترمیمی بل کو لوک سبھا سے منظوری ملنے کے بعد آج راجیہ سبھا میں پیش کر دیا گیا ہے اور اس پر بحث جاری ہے۔ اس دوران ڈی ایم کے (DMK) کے ممبران پارلیمنٹ نے اس بل کو ’’ڈراکونین‘‘ قرار دیا ہے۔

تمل ناڈو اسمبلی نے جمعرات کو متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کر لی ہے جس میں مرکز پر زور دیا گیا ہے کہ وہ وقف ترمیمی بل 2024 کو واپس لے۔ منظور شدہ قرارداد میں اس ترمیمی بل کو ’’مسلمانوں کے مذہبی انتظام میں مداخلت کی ایک اور کوشش‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے اتوار کے روز کہا کہ روپیے کی علامت (₹) کو تمل حروف سے بدلنے پر جاری سیاسی تنازعے کے درمیان اس قدم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی میں یہ تبدیلی زبان کے تئیں ریاست کی گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔

وزیراعلی ایم کے اسٹالن نے زہریلی شراب پینے سے ہونے والی اموات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر قانونی شراب کی فروخت کو روکنے میں ناکام رہنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے۔