Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Bill

 وفد نے سب سے پہلے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی پارٹی نے بطور خاص پارلیمنٹ میں مجوزہ وقف ترمیمی بل کی پرزور مخالفت کی۔ الحمداللہ اپوزیشن کی بھرپور مخالفت سے بل جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اورجمعیۃ علماء ہند کا ایک مشترکہ وفد 20 اگست کو تمل ناڈوکے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن سے بھی ملاقات کرنے والا ہے۔ بہار سمیت دوسری ریاستوں میں بھی جمعیۃعلماء کے اراکین سیاسی پارٹیوں کے قائدین اورجے پی سی ممبران سے ملاقاتیں کرکے مجوزہ بل کے نقائص اور اس کے خطرناک مضمرات سے انہیں روشناس کرارہے ہیں۔

حال ہی میں، جے ڈی یو لیڈر اور مرکزی وزیر راجیو رنجن سنگھ (للن سنگھ) نے وقف بل پر اپوزیشن کے تمام خدشات کو مسترد کرتے ہوئے مرکز کی حمایت کی۔

گزشتہ مانسون اجلاس میں مرکزی حکومت نے وقف بورڈ ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش کیا تھا۔ کانگریس اور ایس پی سمیت کئی پارٹیوں نے اس کی مخالفت کی۔ حکومت نے کہا کہ اس بل کے ذریعے وہ وقف بورڈ کے پورے عمل کو جوابدہ اور شفاف بنانا چاہتی ہے۔

وقف ایکٹ ترمیمی بل-2024 پرغوروخوض کے لئے حکومت نے 31 اراکین والی جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی تشکیل کی گئی ہے۔ حکومت نے پارلیمنٹ میں مخالفت اوراپوزیشن کے مطالبات کو دیکھتے ہوئے اس بل کوجے پی سی کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مرکزی حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ آج پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے وقف (ترمیمی) بل پر جس طرح سے شکوک و شبہات اور اعتراضات سامنے آئے ہیں اس کے پیش نظر اس بل کو ایوان کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہئے۔ بہتر غور کے لیے اسے کمیٹی کو بھیجنا مناسب ہے۔

اسد الدین اویسی نے کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ وقف بورڈ میں خواتین کو ممبر بنایا جائے گا۔ مجھے یقین ہے کہ حکومت بلقیس بانو اور ذکیہ جعفری کو اپنا ممبر بنائے گی۔ آپ یہ بل شامل کرنے کے لیے نہیں بلکہ تقسیم کرنے کے لیے لا رہے ہیں۔

جے ڈی یو کے ایم پی راجیو رنجن عرف للن سنگھ نے کہا کہ کانگریس ایم پی کے سی وینوگوپال اقلیتوں کی بات کررہے ہیں۔ اس ملک میں ہزاروں سکھوں کو مارنے کا کام کس نے کیا؟ سب جانتے ہیں کہ کانگریس نے یہ کیا ہے۔

مرکزی حکومت وقف بورڈ ایکٹ میں ترمیم سے متعلق بل مرکزی وزیر کرن رجیجو نے لوک سبھا میں پیش کیا۔ اس دوران لوک سبھا میں اپوزیشن پارٹیوں نے اس بل کی مخالفت کی ہے۔ کانگریس نے اس بل کو حقوق پر چوٹ قرار دیا ہے۔

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی یو پی اے حکومت نے وقف املاک سے متعلق یہ بل 18 فروری 2014 کو راجیہ سبھا میں پیش کیا تھا۔ اب مرکزی حکومت نے اسے راجیہ سبھا سے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔