Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Bill 2024

مرکزی حکومت کے ذریعہ لایا گیا وقف ترمیمی بل 2024 لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں بھی منظور ہوگیا ہے۔ لوک سبھا کی طرح راجیہ سبھا میں بھی بحث کافی دیرتک چلے گی۔ اب یہ بل قانون بننے کی سمت میں آگے بڑھ چکا ہے۔

وقف ترمیمی بل بحث میں حصہ لیتے ہوئے شیوسینا یو بی ٹی رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے مرکزی حکومت اور بی جے پی کو زوردار انداز میں ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ وقف ترمیمی بل صرف اصل ایشوز سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، اس سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

کانگریس جنرل سکریٹری ڈاکٹر سید ناصر حسین نے راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ وقف بورڈ کے خلاف سب سے بڑی گمراہی یہ پھیلائی گئی ہے۔ وقف بورڈ کسی بھی زمین کو اپنی زمین کہہ دیتا تھا۔ کیا ملک میں ریونیو ریکارڈ نہیں ہے، قانون نہیں ہے، عدالت نہیں ہے؟

لوک سبھا سے پاس ہونے کے بعد راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل کو پیش کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نتیش کمارنے بھی اس بل کی حمایت کی ہے۔ جے ڈی یو کے اس موقف کی مخالفت میں سینئرلیڈرقاسم انصاری نے استعفیٰ دے دیا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈرامتیازجلیل نے لوک سبھا میں منظور وقف ترمیمی بل کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی کے خوف سے چندرابابو نائیڈو اورنتیش کمار نے بل کی حمایت کی۔

مرکز پر نشانہ لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ مسلمانوں کی بھلائی کر رہے ہیں، دونوں ایوانوں میں جس کا ایک ہی مسلم رکن ہے وہ مسلمانوں کا بھلا کرے گا۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکرنے کانگریس صدرملیکا ارجن کھڑگے پروقف املاک سے متعلق الزام لگایا، جس پراب انہوں نے پلٹ وار کیا ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ اگرمیرے پاس ایک انچ بھی وقف کی زمین ہے، توثابت کردیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگربی جے پی کے لوگ مجھے ڈرا کر جھکانا چاہتے ہیں، توانہیں یاد دلا دوں کہ میں ٹوٹ جاؤں گا، لیکن کبھی جھکوں گا نہیں۔

آرجے ڈی کے سینئرلیڈر عبدالباری صدیقی نے کہا کہ مجھے بہت حیرانی ہے کہ نتیش کمار کیسے وقف بل کی حمایت کر رہے ہیں؟ اقتدار کے لئے لوگ نتیش کمار کے ساتھ ہیں۔ جلد بھگدڑ مچے گی۔

وقف ترمیمی بل، 2024 پربدھ کولوک سبھا میں ووٹنگ ہوئی۔ بل کے حق میں 288 ووٹ پڑے تومخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔ ووٹنگ کے بعد بھی اجیت پوار کی پارٹی این سی پی کا رخ سامنے نہیں آیا ہے۔

 سونیا گاندھی نے دعویٰ کیاکہ کل وقف ترمیمی بل، 2025 لوک سبھا میں منظور ہوا اور آج اسے راجیہ سبھا میں پیش کیا جا رہا ہے۔ بل کو من مانی طور پر منظور کر الیا گیا۔ ہماری پارٹی کا موقف واضح ہے۔ یہ بل خود آئین پر ایک کھلا حملہ ہے۔