Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Bill 2024

وقف بل کو لے کر کئی مسلم تنظیموں میں پہلے ہی عدم اطمینان تھا، لیکن آر ایل ڈی کی حمایت کے بعد پارٹی کے اندر بھی احتجاج کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔

وقف ترمیمی بل 2024 کولوک سبھا اورراجیہ سبھا میں منظور کردیا گیا ہے اورصدرجمہوریہ کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔ اس کے خلاف عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔

جے ڈی یو کے کئی لیڈران پہلے ہی پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کرچکے ہیں۔ اب کارکنان اورعہدیداربھی پارٹی چھوڑرہے ہیں۔ اس کا نقصان نتیش کمارکوآئندہ بہاراسمبلی الیکشن میں ہوسکتا ہے۔

وقف ترمیمی بل کی منظوری کے بعد راہل گاندھی نے حکومت پرحملہ کرتے ہوئے اسے مسلمانوں پرحملہ قراردیا ہے اور مستقبل میں دیگر برادریوں کو نشانہ بنانے کا اندیشہ ظاہرکیا ہے۔ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے اس بل پرسخت اعتراض کیا ہے اور سپریم کورٹ جانے کی بات کی ہے۔

اترپردیش کے مظفر نگر میں وقف (ترمیمی) بل، 2025 کی مخالفت میں کالی پٹی پہن کر احتجاج کرنے والے 24 لوگوں کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ مظاہرین کو 2-2 لاکھ روپئے کا بانڈ بھرنے کا حکم دیا ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پرکئی اورلوگوں کی بھی پہچان کی ہے۔

وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ سے منظوری ملنے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، ملی  تنظیمیں اورہزاروں مسلمانوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ وہیں آل انڈیا مسلم جماعت نے بل کی حمایت کی ہے۔

راجیہ سبھا میں کل دیررات وقف ترمیمی بل پرہوئی ووٹنگ میں نیا تال میل نظرآیا۔ وقف ترمیمی بل کی حمایت 128 ووٹ پڑے اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے جبکہ حکومت کے پاس 125 اوراپوزیشن کے پاس 88 اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ ایسے میں آئیے آپ کو پوری تفصیل بتاتے ہیں۔

حکومت نے اس بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلم کمیونٹی کے مذہبی آزادی میں مداخلت نہیں کرتا۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں بحث کے دوران مسلم کمیونٹی کو یقین دلایا کہ یہ بل ان کے مذہبی عمل میں مداخلت نہیں کرے گا۔

زخمی بزرگ کے مطابق کچھ لوگ اسے زخمی حالت میں تھانے لے گئے اور پولیس کو واقعے کی اطلاع دی۔ جب یہ معاملہ پولیس افسران کے علم میں آیا تو سی او دیپک تیواری نے فوری طور پر پولیس کو موقع پر بھیجا اور تحقیقات کرائی لیکن تب تک ملزم فرار ہو چکے تھے۔

ذرائع کے مطابق کئی اضلاع میں تالابوں، چراگاہوں، کھلیانوں اور پبلک یوٹیلیٹی اراضی کو وقف قرار دے کر قبضہ کر لیا گیاہے۔ اب ایسے معاملات میں سخت تحقیقات کے بعد زمین کو سرکاری جائیداد قرار دے کر واپس کر لیا جائے گا۔