Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Bill 2024

وقف ترمیمی بل 2024 کو لوک سبھا میں اپوزیشن کی زبردست مخالفت کے درمیان منظورکرلیا گیا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے وزیراعظم مودی پرتنقید کی ہے۔

کانگریس کے سابق صدراور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس قانون کی سختی سے مخالفت کرتی ہے کیونکہ یہ ہندوستان کے بنیادی خیال پر حملہ کرتا ہے اور مذہبی آزادی کے حق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

وقف ترمیمی بل 2024 پرآج لوک سبھا میں بحث ابھی تک جاری ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ سے قانون بننے کے بعد اسے ماننا ہی پڑے گا۔ 

وقف ترمیمی بل پرلوک سبھا میں بحث کے دوران آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈراور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بل کی کاپی کوپھاڑ دیا۔ انہوں نے احتجاج کے طورپربل کی کاپی کو پھاڑا ہے۔ اویسی نے کہا کہ حکومت کی منمانی ہے اوریہ بل پوری طرح سے غیر آئینی ہے۔

یہ قانون اسلامی اصولوں کے مطابق بنایا گیا تھا اور اس میں مجوزہ ترمیم اسلامی روایات اور ثقافت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ یہ اقدام مسلمانوں کے حقوق سلب کرنے کی کوشش ہے، جو سراسر غیر آئینی ہے: کلیان بنرجی

وقف ترمیمی بل پر لوک سبھا میں بحث کے دوران عمران مسعود نے کہا ’’آج وہ لوگ بول رہے ہیں، جو وقف کا مطلب بھی نہیں سمجھتے ہیں۔ وقف کو مسلمان ہی سمجھتا ہے اور جانتا ہے۔‘‘

اروند ساونت نے کہا کہ ’’وقف بورڈ میں چنندہ لوگ شامل ہوں گے۔ یہ جمہوری انتخاب کے خلاف ہوگا اور اس سے بورڈ میں مسلمانوں کی تعداد کم ہوتی جائے گی، جس کی وجہ سے وہ یہاں بھی اقلیت میں آ جائیں گے۔‘‘

وزیر داخلہ نے لوک سبھا میں کہا کہ یہاں ایک رکن نے کہہ دیا کہ اقلیتی طبقہ اس قانون کو منظور نہیں کرے گا۔ یہ پارلیمنٹ کا قانون ہے، سب کو قبول کرنا پڑے گا۔

مولانا محمود اسعد مدنی کا کہنا ہے کہ اوقاف سے متعلق جو بل پیش کیا جا رہا ہے، وہ غیر آئینی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے

شیوسینا یوبی ٹی کے رکن پارلیمنٹ اروند ساونت نے کہا کہ حکومت کے قول وفعل (کتھنی اورکرنی) میں فرق ہے۔ ابھی سوغات مودی چل رہا تھا۔ اب سوغات وقف بل آگیا ہے۔