Bharat Express DD Free Dish

UP Police

وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہلی حکومت نے پچھلی حکومتوں کی بدعنوانی اور بدنظمی کی روایت کو توڑ دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت کا کام بے مثال ہے۔

یوپی کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے غیرقانونی تبدیلی اورچھانگربابا سے متعلق بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے تبدیلی مذہب کے لئے الگ الگ ریٹ متعین کئے تھے، لیکن ان کے خلاف بڑی کارروائی کی جارہی ہے۔ یہ لوگ ملک کی شبیہ خراب کرنے کا کام کررہے ہیں۔

یوپی اے ٹی ایس نے حال ہی میں چھانگربابا اوران کے معاون نیتوعرف نسرین کوبلرام پورسے گرفتارکیا ہے۔ اس کے ساتھ غیرقانونی طریقے مذہب تبدیلی کے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوا ہے۔

ڈی جی پی نے واضح کیا کہ بڑے DJ صرف شہر کے بائی پاس پر لگیں گے، انہیں شہر کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ گزشتہ سال کانوڑیوں کی تعداد 4 کروڑ تھی، اس سال مزید اضافے کا امکان ہے۔ ریلوے سے سفر کرنے والے کانوڑیوں کو لے کر بھی بات چیت ہوئی ہے، اور سختی سے کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص ٹرین کی چھت پر سفر نہ کرے۔

سوامی یشویرمہاراج کا ایک اورمتنازعہ بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے دارالعلوم دیوبند سے کانوڑ بنانے والے مسلمانوں کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی ہری دوار سے اس بار کانوڑ نہ خریدنے کی اپیل کی ہے کیونکہ وہاں مسلم طبقے کے لئے 90 فیصد کانوڑبنا رہے ہیں۔

یوپی کے بلرام پورمیں غیرقانونی مذہب تبدیلی کے الزام میں گرفتار جمال الدین عرف چھانگربابا کی حویلی پربلڈوزرچلا دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ حویلی گرام سبھا کی زمین پربنائی گئی تھی۔ پولیس کی موجودگی میں یہ بلڈوزرکارروائی کی گئی۔

یوپی اسمبلی انتخابات کے دوران عباس انصاری نے مئومیں ایک انتخابی ریلی میں مبینہ طور پراشتعال انگیزتقریرکی تھی۔ ان کی تقریر میں سرکاری اہلکاروں کودھمکیاں ملتی تھیں۔

اترپردیش کے اعظم گڑھ میں سماج وادی پارٹی کے قومی صدراکھلیش یادوکے پروگرام کے دوران سیکورٹی میں کوتاہی کی اطلاع ملی ہے۔ حالانکہ پولیس اہلکاروں نے فوراً نوجوان کو روکا اور حراست میں لیا۔ اس معاملے کے بعد سماجوادی پارٹی نے انتظامیہ پر الزام لگائے ہیں۔

ہندوستانی کرکٹر اوررائل چیلنجرس بنگلوروکے تیزگیند بازیش دیال کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ یش دیال پرایک خاتون نے جسمانی استحصال کا سنگین الزام لگایا ہے۔ اب اس خاتون نے کئی سنسنی خیزانکشاف بھی کئے ہیں۔

بھیم آرمی کے چیف اور رکن پارلیمنٹ چندرشیکھر آزاد پریاگ راج میں ہوئے تشدد معاملے میں نے کہا کہ ہمارے کارکنان، آئین میں یقین رکھتے ہیں اوروہ تشدد میں شامل نہیں ہوتے۔ اگرحکومت، پولیس یا انتظامیہ کسی کوجان بوجھ کرنشانہ بنائے گی توہم خاموشی کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے اورلکھنؤ میں بڑا آندولن کریں گے۔