Bharat Express DD Free Dish

UP Police

مسکان کی ماں نے کہا کہ سوربھ نے اس لڑکی کے لئے اپنی فیملی کو چھوڑ دیا تھا، لیکن اس نے اس کے ساتھ غلط کیا۔ وہیں مسکان کے والد نے کہا کہ اسے جینے کا حق نہیں ہے، اسے پھانسی ہونی چاہئے۔

فرحانہ کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات میں قتل کی کوشش، فساد کرنے، آن ڈیوڈی سرکاری ملازمین کے کام میں رخنہ اندازی کرنے سمیت کئی سنگین دفعات میں مقدمے درج تھے، لیکن ان پر الزام جھوٹا ثابت ہوا۔

نوئیڈا کے سیکٹر-126 کی پولیس اور موبائل اسنیچنگ کرنے والے بدمعاشوں کے درمیان ہوئے تصادم میں تین بدمعاشوں کے پیر میں گولی لگی ہے۔ اس دوران پولیس نے زخمیوں کو گرفتارکرلیا ہے۔

آپ کو بتادیں کہ 2023 میں دونوں کے درمیان شراکت داری ہوئی تھی۔ اس کے تحت جیسے ہی میٹا خودکشی کے امکان کی نشاندہی کرنے والی پوسٹ کا پتہ لگاتا ہے، وہ ای میل یا فون کے ذریعے پولیس کو الرٹ بھیج دیتا ہے۔ اس کے لیے ڈی جی پی ہیڈ کوارٹر میں ایک سوشل میڈیا سنٹر بنایا گیا ہے۔

نوئیڈا تھانہ سیکٹر-126 علاقہ کے تحت واقع اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی آمیز فرضی ای-میل بھیجنے والے معاملے میں نوئیڈا پولیس کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ پولیس نے صرف 12 گھنٹے میں اس کا انکشاف کردیا ہے۔

سماجوادی پارٹی کے قومی صدراکھلیش یادونےسنبھل میں پولیس حراست میں ہوئی مبینہ موت کے معاملے پرتبصرہ کیا ہے۔

میرٹھ کے لیساڈی گیٹ کی سہیل گارڈن کالونی میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کے قتل کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔ تمام افراد کی لاشیں گھر کے اندر سے ملیں۔

پوچھ گچھ کے دوران اس نے بتایا کہ جب وہ اپنے گاؤں میں تھا تو اس کے والدین کا انتقال ہو گیا تھا۔ شادی کے چند سال بعد اس کی بیوی نے بھی اسے چھوڑ دیا کیونکہ وہ بچے پیدا نہیں کر پا رہے تھے۔ اس کے بعد وہ اپنے کزن کے پاس رہنے چلا گیا۔

ضلع میں شاہی جامع مسجد کے سروے کے دوران ہنگامہ ہوا۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران جب پولیس نے مقامی لوگوں پر گولیاں چلائیں تو جواب میں لوگوں نے پولیس ٹیم پر پتھراؤ کیا۔ اس دوران کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ایس ٹی حسن نے کہا کہ ہمیں اس معاملے میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے۔ میں ایک بات کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر ایسا ہوا تو کچھ لوگوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انتظامی افسران کو غیر قانونی طریقے سے کسی بھی قسم کی تعمیرات نہیں کرانے چاہیے۔