Bharat Express DD Free Dish

Ukraine-Russia War

کیف نے کہا کہ نیٹو کے لیے زمینی معاہدہ روسی جارحیت کو اعزاز دینے کے برابر ہو گا۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کے ایک سینئر مشیر میخائیلو پوڈولیاک نے کہا کہ نیٹو کی رکنیت کے لیےزمین کا سودا؟ یہ مضحکہ خیز ہے۔ اس کا مطلب ہے جان بوجھ کر جمہوریت کی شکست کا انتخاب کیا جارہا ہے۔

اگر ہم یوکرین کو شامل کرتے ہیں تو ہم سب ایک جنگ کی حالت میں ہوں گے۔ اگر ایسا ہوا تو روس سے جنگ لڑنی پڑے گی۔ بائیڈن نے کہا، ہمیں یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے کا اہل بنانے کے لیے معقول طریقہ سے کام کرنا ہوگا۔

ایک چوتھائی سال سے جاری روس اور یوکرین جنگ میں جوہری جنگ کا خطرہ ایک بار پھر لوٹ آیا ہے۔ مہینوں کی دھمکیوں کے بعد بالآخر روس نے بیلاروس میں اپنا پہلا ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار تعینات کر دیا ہے۔ اس تعیناتی کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے یہ کہہ کر آگ میں گھی ڈال دیا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے خطرے کو حقیقت میں بدلنے کا امکان ہے۔

جے شنکر نے کہا، "ابھی ہماری توجہ اس بات پر ہے کہ آپ ترقی پذیر ممالک، چھوٹے جزیرے کے ترقی پذیر ممالک، کم ترقی یافتہ ممالک، جو واقعی پاتال کے کنارے پر ہیں، کی اہم ضروریات کو کیسے پورا کرتے ہیں۔"

مسئلہ یہ ہے کہ جنگ شروع ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن کوئی نہیں جانتا کہ جنگ کیسے رکے گی؟ تاریخ میں کئی بار دنیا کا چودھری بننے والا امریکہ بھی اس بار بے بسی سے بھارت کی طرف دیکھ رہا ہے۔

ولادیمیرزیلنسکی وزیراعظم  مودی کا سب سے زیادہ احترام کرتے ہیں اورانہوں نے ہندوستان سے ان کی امن تجویزپرحمایت حاصل کرنے کے علاوہ کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ بہت سے ممالک دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی طرف دیکھتے ہیں۔

ایس جے شنکر نے کہا، ''چین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے جیسا کہ اس کا حق ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان جو کچھ ہوا ہے اس میں بھی انہوں نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔

FIEO کی 'نریات شری' اور 'نریات بندھو' ایوارڈ کی تقریب نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، گوئل نے کہا، "2022-23 میں ہندوستان کی برآمدات 773 بلین امریکی ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ جائیں گی۔"

روس کے وزیردفاع کے ذریعہ چین کے حق میں بیان دینے اور جن تنظیموں سے ہندوستان جڑا ہے، ان کی مخالفت کرنے کے بعد نئے حالات بنتے ہوئے نظرآرہے ہیں۔

بلاشبہ، یوکرین کی جنگ میں فرانس کے کردار پر اس کی چھوٹی سی شراکت پر اکثر سوالیہ نشان لگتے رہے ہیں، لیکن یورپ کے بیشتر دوسرے ممالک بھی امریکہ کے ساتھ راضی نہیں ہیں۔ جرمن چانسلر اولاف شولز کی یوکرین میں لیپرڈ ٹینک بھیجنے سے ہچکچاہٹ یورپی سوچ سے جڑی ہوئی ہے۔