Bharat Express DD Free Dish

Ukraine-Russia War

ولادیمیر زیلینسکی نے کہا، "ہماری پالیسی وہی ہے جو پہلے تھی۔ اگر معدنی معاہدے پر اتفاق ہو جاتا ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ یہ معاہدہ یوکرین کے وسیع معدنی وسائل پر امریکہ اور یوکرین کے درمیان ایک اہم قدم ہو سکتا تھا

قرارداد میں روسی فیڈریشن اور یوکرین کے درمیان تنازعہ کے دوران اموات پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کا مرکزی کردار عالمی امن اور تنازعات کے خاتمے کو ممکن بنانا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ اگر جنگ چھڑنے کے وقت وہ اقتدار میں ہوتے تو وہ ایک سمجھوتے تک پہنچ سکتے تھے۔ یہ سمجھوتا یوکرین کو "تقریبا تمام اراضی پیش کر دیتا ، کسی ہلاکت یا کسی شہر کے تباہ ہوئے بغیر ... میں امن چاہتا ہوں ، میں مزید ہلاکتیں نہیں چاہتا"۔

زیلنسکی نے کہا کہ یورپ، امریکہ اور اپنے تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہم اس جنگ کو منصفانہ اور دیرپا امن کے ساتھ ختم کر سکتے ہیں۔ حالانکہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے یورپی اتحادیوں اور یوکرین کو چونکاتے ہوئے پوتن کو فون کیا اور امن مذاکرات کے فوری آغاز کا اعلان کیا۔

ہفتے کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے فون پر بات چیت کی۔ جو 12 فروری کو ٹرمپ اور پوتن کے درمیان ہونے والی گفتگو پر مبنی تھی۔ امریکی نمائندے مائیکل میکول نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر حکام آنے والے دنوں میں سعودی عرب میں روسی اور یوکرینی مذاکرات کاروں کے ساتھ امن مذاکرات شروع کریں گے۔

گورنر ایوان فیڈروف نے بتایا کہ روسی افواج نے دوپہر کے وقت ایک رہائشی علاقے پر بمباری کی اور حملے میں دو رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ اس سے قبل بدھ کے روز یوکرین کی فوج نے کہا تھا کہ اس نے روس میں ایندھن ذخیرہ کرنے کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔

یوکرین نے روس پر9/11 جیسا حملہ کیا ہے۔ یوکرینی فوج نے کزان کی 6 عمارتوں پر ڈرون حملہ کیا۔ حملے کے بعد پورے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔

منگل کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کے ایک حکم نامے پر دستخط کیے، جس میں روس کے ذریعہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر لگی پابندی کو کم کیا گیا۔

ٹرمپ نے یوکرین کو دی جانے والی امریکی امداد کی تنقید کی ہے– جو 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے 100 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے – جس کی وجہ سے کیف اور یورپی یونین میں یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ ٹرمپ بنیادی طور پر ماسکو کی شرائط پر امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔

ادھر شمالی کوریا نے یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کو 1000 سے زائد میزائل دیے ہیں۔ یہ اطلاع جنوبی کوریا کے وزیر دفاع نے دی ہے۔