Bharat Express DD Free Dish

TMC

حادثہ کے دوران لوگوں اورسیکورٹی اہلکاروں کے درمیان بھی کافی دیرتک بحث ہوتی رہی۔ حالانکہ حالات قابومیں رکھنے کی کوشش کی گئی، لیکن علاقے میں کشیدگی بنی رہی۔ مغربی بنگال اسمبلی الیکشن کی 294 سیٹوں کے لئے ووٹنگ 23 اپریل اور29 اپریل کودومرحلوں میں ووٹنگ ہوئی ہے۔ اب ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہونی ہے۔

مغربی بنگال میں ووٹوں کی گنتی سے پہلے، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے ووٹوں کی گنتی کے آبزرور (مبصر) تنازعہ سے متعلق سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ کپل سبل نے دلیل دی کہ ڈی ای او کا نوٹس تاخیر سے موصول ہوا اور ہر بوتھ پربے ضابطگیوں کا امکان ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو افسریا اہلکار منتخب کرنے کا اختیار ہے۔

مغربی بنگال میں الیکشن کے بعد ای وی ایم کواسٹرانگ روم میں رکھا گیا ہے۔ ٹی ایم سی لیڈران نے الزام لگایا ہے کہ کولکاتا کے لیڈران انڈوراسٹیڈیم کے اسٹرانگ روم میں ای وی ایم کے ساتھ گڑبڑی کی کوشش کی جارہی ہے۔ کنال گھوش اورششی پانجا جیسے لیڈر دھرنا دے رہے ہیں۔

شائننگ انڈیا کے ایگزٹ پول کے مطابق ٹی ایم سی کو 294 میں سے تقریباً 159 سیٹیں حاصل ہو سکتی ہیں، جو اسے واضح اکثریت کی جانب لے جاتی ہیں۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو 128 سیٹیں ملنے کی امید ظاہر کی گئی ہے، جس سے مقابلہ اگرچہ سخت دکھائی دیتا ہے، مگر برتری ٹی ایم سی کے پاس ہی رہنے کا امکان ہے۔

مغربی بنگال کے انتخابات میں آبزرور کے طور پر تعینات یوپی کے آئی پی ایس اجے پال شرما ایک وائرل ویڈیو کی وجہ سے تنازعات میں گھِر گئے ہیں۔ ٹی ایم سی کے ترجمان رِجو دتہ نے انہیں ‘4 تاریخ’ کے بعد انجام بھگتنے کی دھمکی دی ہے، جبکہ اکھلیش یادو نے اسے یوپی انتظامیہ کی شبیہ کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے اور آخری مرحلے کے لیے انتخابی مہم پیر کی شام 6 بجے اختتام پذیر ہو گئی، جس کے ساتھ ہی 48 گھنٹوں کا سائلنس پیریڈ نافذ ہو گیا ہے۔ اب 29 اپریل کو ریاست کی 142 اسمبلی نشستوں پر سخت سکیورٹی کے درمیان ووٹنگ ہوگی، جس میں لاکھوں ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

وزیر اعظم مودی نے بنگال میں اپنی انتخابی مہم کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ریاست میں ایک منفرد توانائی اور جوش محسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ شدید گرمی اور مسلسل ریلیوں کے باوجود انہیں کسی قسم کی تھکن محسوس نہیں ہوئی۔ ان کے بقول، یہ ریلیاں اور روڈ شوز ان کے لیے کسی مذہبی یاترا سے کم نہیں تھے، جہاں انہیں عوام کی محبت اور عقیدت نے مسلسل توانائی فراہم کی۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال کے ہر شعبے میں ممتا بنرجی کی حکومت مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق عوام کے اندر موجودہ حکومت کے خلاف شدید ناراضگی پائی جاتی ہے اور لوگ تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے مسائل اور معاشی چیلنجز کو حل کرنے کی صلاحیت صرف بی جے پی کے پاس ہے۔

روڈ شو کے دوران مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد، بشمول نوجوان، بزرگ اور خواتین، بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ کئی افراد وزیر اعظم کے کٹ آؤٹس اٹھائے ہوئے تھے جبکہ کچھ لوگ پھولوں کی مالائیں لے کر ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ اس موقع پر خواتین کی نمایاں شرکت نے سب کی توجہ حاصل کی، جن میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی طالبات بھی شامل تھیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ تقریباً 15 برس قبل ٹی ایم سی ”ماں، ماٹی اور مانُش“ کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی، لیکن آج اس نعرے کا ذکر بھی نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے ان کی ناکامی اور بدعنوانی بے نقاب ہو جائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی پالیسیوں نے ماں کو رونے پر مجبور کیا، ماٹی کو سنڈیکیٹ اور دراندازوں کے حوالے کر دیا اور مانُش کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔