HM Amit Shah Bengal Rally: حکومت بنتے ہی ٹی ایم سی کے تمام سنڈیکیٹ ختم کر دیں گے، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی: وزیر داخلہ امت شاہ
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ٹی ایم سی پر ”سنڈیکیٹ راج“ چلانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پانچ تاریخ کو بی جے پی کی حکومت بنتے ہی ریاست بھر میں تمام سنڈیکیٹ نظام ختم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت قانون و نظم کو مضبوط بنائے گی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
PM Modi Bengal Rally: ٹی ایم سی کے غنڈوں کا 4 مئی کے بعد چن-چن کر حساب ہوگا: وزیر اعظم مودی
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ووٹروں کی بڑی تعداد دیکھ کر ٹی ایم سی کے لیڈر حیران اور پریشان ہیں کیونکہ انہیں اتنی بڑی شرکت کی توقع نہیں تھی۔ مودی کے مطابق ریاستی حکومت نے اپنے کرتوتوں سے عوام کا اعتماد کھو دیا ہے، جس کے باعث لوگ آئے دن عدالتوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔
West Bengal Assembly Elections 2026: وزیر داخلہ امت شاہ کا بڑا دعویٰ، بنگال میں بی جے پی کی حکومت بنے گی، پہلے مرحلے کی 152 میں سے 110 نشستیں جیتنے کا امکان
وزیر داخلہ امت شاہ نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد بڑا سیاسی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کی حکومت بننے کے امکانات انتہائی روشن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے داخلی اندازوں کے مطابق پہلے مرحلے کی 152 نشستوں میں سے بی جے پی 110 سے زیادہ سیٹیں جیت سکتی ہے۔
Bengal Elections: ’’جھالموڑی میں نے کھائی…’جھال’ ٹی ایم سی کو لگی…‘‘، پی ایم مودی کا ممتا حکومت پر حملہ
وزیر اعظم نریندر مودی نے ماتوا اور نامشودر برادریوں کو یقین دلایا کہ انہیں کسی قسم کے خوف کی ضرورت نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بننے کے بعد شہریت دینے کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔
West Bengal Elections: مغربی بنگال میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ کی تیاریاں مکمل، سخت سکیورٹی کے درمیان ہائی اسٹیکس مقابلہ
الیکشن کمیشن نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ تقریباً 2,407 مرکزی مسلح پولیس فورسز کی کمپنیاں، جن میں 2.4 لاکھ سے زائد اہلکار شامل ہیں، تعینات کیے گئے ہیں۔ 7,384 پولنگ مراکز کو حساس یا انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے اور فوری ردعمل ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں۔
HM Amit Shah Chandipur Rally: ’دیدی کو بائے بائے!‘ انتخابی مہم کے آخری دن وزیر داخلہ امت شاہ کا ممتا بنرجی کی رخصتی کا اعلان، بنگال میں تبدیلی کا دعویٰ
انتخابی ریلی میں خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ بنگال کی عوام طویل عرصے سے مسائل کا سامنا کر رہی ہے اور اب وہ تبدیلی کے لیے ووٹ دے گی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں ممتا بنرجی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "میں دیدی کو کہنے آیا ہوں، دیدی ٹاٹا، بائے بائے، اب آپ کا وقت ختم ہونے والا ہے"۔
West Bengal Assembly Elections 2026: دارجلنگ میں وزیر داخلہ امت شاہ کی ریلی، گورکھا مسئلہ حل کرنے کا وعدہ، ممتا حکومت کو بنایا شدید تنقید کا نشانہ
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ الیکشن صرف حکومت بدلنے کا نہیں بلکہ بنگال کی خواتین کو محفوظ بنانے کا انتخاب ہے۔ انہوں نے سندیش کھالی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی حکومت بنی تو تمام مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور قانون کی حکمرانی قائم کی جائے گی۔
HM Amit Shah Kulti Rally: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی بنگال ریلی میں بڑی بھیڑ، شرکاء کا دعویٰ- اس بار ’دیدی‘ کا جانا طے
مغربی بنگال کے بردھمان ضلع کے کلٹی علاقے میں واقع وکٹوریہ ویسٹ اسکول گراؤنڈ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی انتخابی ریلی میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت دیکھنے کو ملی۔ ریلی میں شریک افراد نہ صرف امت شاہ کی تقریر سننے پہنچے بلکہ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی سیاسی ترجیحات اور توقعات کا بھی کھل کر اظہار کیا۔
Mamata Banerjee Slams BJP Agencies: ”کیا مجھے مار کر بنگال جیتنا چاہتے ہیں؟“ ڈی سی پی کے گھر پر ای ڈی کی کارروائی سے ممتا بنرجی برہم، ٹی ایم سی کا بی جے پی اور مرکزی ایجنسیوں پر سخت حملہ
انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ جس افسر کی ذمہ داری ان کی سکیورٹی دیکھنا ہے، اسی کے گھر پر مرکزی ایجنسیوں کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ”آپ کا مقصد کیا ہے؟ کیا آپ مجھے ختم کر کے بنگال جیتنا چاہتے ہیں؟“ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی انہیں نقصان پہنچا کر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو وہ کامیاب نہیں ہوگا۔
West Bengal Assembly Elections 2026: آئی-پیک کا کام بند، بنگال انتخابات میں ٹی ایم سی کی حکمت عملی کو دھچکا، سیاسی ماحول گرم
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے عین بیچ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا ہے جب انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (آئی-پیک) نے اچانک ریاست میں اپنی سرگرمیاں عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف ٹی ایم سی کی انتخابی حکمت عملی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ سیاسی ماحول کو بھی خاصا گرم کر دیا ہے۔





