Bharat Express DD Free Dish

TMC

امت شاہ نے انتخابی عمل کے دوران کسی بھی قسم کی بدامنی یا دھاندلی پر سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ 23 اور 29 اپریل کو ہونے والی ووٹنگ کے دوران اگر کسی نے خلل ڈالنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہے ایسے عناصر ووٹنگ کے دن گھروں میں ہی رہیں، ورنہ قانون اپنا کام ضرور کرے گا۔

چندر بوس اس سے قبل بی جے پی کے ٹکٹ پر 2016 میں بھوانی پور اسمبلی سیٹ سے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خلاف الیکشن لڑ چکے ہیں، تاہم انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب انہوں نے اسی انتخابی میدان کے درمیان پارٹی تبدیل کر کے ٹی ایم سی کا دامن تھام لیا ہے، جس سے سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی نے پہلے مرحلے کی ووٹنگ سے قبل وسیع پیمانے پر انتخابی مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق وہ پہلے مرحلے کے لیے 500 سے زیادہ ریلیاں اور عوامی جلسے منعقد کرے گی، جن میں مرکزی اور ریاستی سطح کے سرکردہ لیڈر حصہ لیں گے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی 11 بڑی انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد تمام سرکاری ملازمین کو مہنگائی بھتہ فراہم کیا جائے گا اور 45 دن کے اندر ساتواں پے کمیشن نافذ کر دیا جائے گا تاکہ ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں لکھا کہ دوپہر کا وقت ہے، دھوپ تیز ہے، لیکن اس کے باوجود مغربی بنگال کے عوام کا جوش دیدنی ہے۔ انہوں نے کمل کے انتخابی نشان کا ذکر کرتے ہوئے ریاست بھر میں عوامی حمایت کا بھی اشارہ دیا اور کہا کہ یہ جذبہ تبدیلی کی علامت ہے۔

وزیر اعظم نریندرمودی نے مغربی بنگال میں ٹی ایم سی حکومت پر"سنڈیکیٹ راج" اور"کٹ منی" کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ بنگال کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بنگال میں بھی تبدیلی اورترقی کا وعدہ کیا۔

وزیر اعظم نے نوجوانوں کے رجحان کے بارے میں دریافت کیا، جس پر کارکنان نے کہا کہ نوجوان طبقہ بھی پارٹی کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس پر وزیر اعظم مودی نے مسکراتے ہوئے کہا، "چلیے، جیت پکی کیجئے"، جس پر وہاں موجود کارکنان نے پرجوش نعروں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ اس غیر رسمی گفتگو نے انتخابی ماحول کو مزید گرم کر دیا اور کارکنان میں نیا جوش پیدا ہوا۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کوچ بہار کی ریلی عوام کے بدلتے ہوئے مزاج کی واضح علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ٹی ایم سی کے دور حکومت میں سنڈیکیٹ راج اور بدعنوانی کا خوف ہے، جبکہ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ترقی اور شفاف حکمرانی کا وعدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں لوگوں کو اپنی جائیداد اور کاروبار کے تحفظ کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں، جس کی وجہ سے عوام میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔

حکام کے مطابق ریاستی حکومت نے اسمبلی انتخابات کے اعلان سے قبل تقریباً ایک ہزار افراد کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے 2,185 پولیس اہلکار تعینات کیے تھے۔ ان میں 832 افراد براہ راست ترنمول کانگریس سے وابستہ تھے جبکہ 144 افراد کو پارٹی کے حامیوں کے طور پر سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ اس پیش رفت پر الیکشن کمیشن نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے قبل اس نوعیت کی تعیناتی انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے لیے کانگریس پارٹی نے ’سولو‘ حکمتِ عملی اختیار کر لی ہے۔ اتحاد کی سیاست کو نظر انداز کرتے ہوئے پارٹی نے تمام 294 نشستوں پر اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے۔