Bharat Express DD Free Dish

TMC

ترنمول کانگریس میں رہے مشہور ٹینس اسٹار لینڈرپیس اب بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ اب لینڈر پیس مغربی بنگال اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کے لئے انتخابی تشہیر کرتے ہوئے نظرآئیں گے۔ اس دوران لینڈرپیس نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک والدین اور فیملی کے نام کو بڑا کرنے کا کام کیا تھا، لیکن اب اس کے بعد انہیں ملک کی خدمت کرنے کا موقع ملا ہے۔

بنگال الیکشن سے متعلق اکھلیش یادو نے بی جے پی پربڑا حملہ بولا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ بی جے پی بنگال بری طرح سے ہار رہی ہے۔ وہاں دیدی ہیں، دیدی رہیں گی۔ یہ تبادلے نہیں، انتخابی ہیرا پھیری ہے۔ بنگال میں بی جے پی کا منہ میٹھا نہیں ہوگا۔

ترنمول کانگریس کے آل انڈیا جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی کے مطابق انتخابات کے اعلان کے فوراً بعد الیکشن کمیشن نے بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں کیں، جن میں چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری، ڈی جی پی، اے ڈی جی، آئی جی، ایس پی، ڈی ایم، کولکتہ پولیس کمشنر اور یہاں تک کہ کے ایم سی کمشنر کو بھی تبدیل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس غیر معمولی مداخلت سے نیت اور وقت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔

بی جے پی نے 40 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ ’ٹی ایم سی کے 15 سال، مغربی بنگال لہولہان‘ کے عنوان سے جاری کی، جس میں ترنمول کانگریس حکومت کے 15 سالہ دور کی خامیوں کو گنوایا گیا ہے۔

مغربی بنگال میں اویسی اور ہمایوں کبیر کے اتحاد سے TMC کے M+M فارمولا کو چیلنج مل سکتا ہے۔ جانئے مسلم ووٹ بینک پر کیا اثر پڑے گا۔

ٹی ایم سی نے الزام لگایا کہ یہ ویڈیوز صرف ذاتی حملہ نہیں بلکہ انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی ایک سازش کا حصہ ہیں۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ جینا کی جانب سے استعمال کی گئی زبان انتہائی فحش اور نفرت انگیز ہے، جو ایک آئینی عہدے پر فائز خاتون کی توہین ہے۔

مغربی بنگال میں تقریباً 15 سال تک اقلیتی ووٹر ترنمول کانگریس کی انتخابی طاقت کا بنیادی ستون رہے ہیں۔ اب تقریباً 30 فیصد اقلیتی ووٹروں کو لبھانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے، جو ریاست کی 294 اسمبلی نشستوں میں سے 114 سے زائد نشستوں کے نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کی تاریخوں کا اعلان ہو چکا ہے۔ 23 اور 29 اپریل کو دو مرحلوں میں ووٹنگ ہوگی۔ جانیں ٹی ایم سی، بی جے پی، سی پی آئی (ایم) اور کانگریس کی طاقت، کمزوریاں اور انتخابی حکمتِ عملیاں۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ریاست کی سیاست میں برسوں سے ایک ہی طرز کی حکومتیں آتی رہی ہیں۔ پہلے کانگریس کی حکومت رہی، اس کے بعد بائیں بازو کی جماعتوں نے اقتدار سنبھالا اور اب آل انڈیا ترنمول کانگریس برسراقتدار ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق ان تمام ادوار میں ترقی کی رفتار متاثر ہوئی اور ریاست بنیادی ڈھانچے کے معاملے میں پیچھے رہ گئی۔

نریندر مودی نے مغربی بنگال کی ترنمول کانگریس حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے تمام حدود پار کر دی ہیں اور اس واقعے کے لیے اس کی انتظامیہ ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر جمہوریہ کے عہدے کی توہین کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔