Bharat Express DD Free Dish

tejaswi yadav

اپنے حکم میں عدالت نے کہا کہ الزام ہے کہ لالو پرساد یادو نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی اہلیہ اور بچوں کے نام غیر منقولہ جائیدادیں حاصل کیں۔ عدالت کے مطابق اس پورے معاملے میں دیگر ملزمان نے بھی مجرمانہ سازش میں سرگرم تعاون کیا۔

 تیج پرتاپ یادو نے 2024 میں آر جے ڈی سے الگ ہو کر جن شکتی جنتا دل بنایا اور عظیم اتحاد سے دستبرداری اختیار کی۔ ان کی پارٹی اس الیکشن میں اکیلے 12 سیٹوں پر مقابلہ کر رہی ہے،

تیجسوی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے ہر خاندان کو سرکاری نوکری دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیا بہار ایسا ہو گا، جہاں نوجوان بے روزگار نہیں ہوں گے اور انہیں نوکریوں کے لیے دوسری ریاستوں میں نہیں جانا پڑے گا۔

 تیجسوی نے کہا کہ ایس آئی آر ایک بڑا فراڈ ہے۔ یہ حالت ڈپٹی سی ایم وجے کمار سنہا کی ہے۔ میرا کیس آیا تو میڈیا ٹرائل ہوا۔ میں نے اپنا جواب الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا ہے۔ اس کے باوجود مجھے دوبارہ نوٹس بھیجا گیا۔ کیا الیکشن کمیشن وجے کمار سنہا کو نوٹس جاری کرے گا؟ انہیں دو جگہوں سے نوٹس ملنا چاہیے۔

تیجسوی نے کہا کہ ڈومیسائل پالیسی کا مطالبہ پچھلے 20 سال سے اٹھ رہا ہے، لیکن حکومت نے اب جا کر اس پر قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کے نوجوانوں کو روزگار دینے کے لیے یہ پالیسی ضروری ہے، جیسا کہ کئی ریاستوں میں اسے پہلے ہی نافذ کیا جاچکا ہے۔

راشٹریہ جنتا دل کے لیڈراوراسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر رتیجسوی یادو نے گاندھی میدان میں  وقف قانون کے خلاف احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پہلے دن سے ہی اس وقف بل کی مخالفت کی ،لیکن کچھ نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی مہربانی سے حکومت نے اس بل کو ایوان میں زبردستی منظور کرالیا۔

تیجسوی نے کہا کہ بہار کے 3 کروڑ لوگ روزگار کے لیے دوسری ریاستوں میں رہتے ہیں۔ ان کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ مزدور اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیسے کریں گے؟

آر جے ڈی کو ایک بڑی پارٹی کے طور پر قبول کرتے ہوئے کنہیا نے کہاکہ یہ سچ ہے کہ آر جے ڈی ایک بڑی پارٹی ہے، اس کے زیادہ ایم ایل اے ہیں، یہ مہاگٹھ بندھن کو قیادت فراہم کرتی ہے، اس کے پاس اپوزیشن لیڈر کا عہدہ ہے، فطری طور پر یہ اس کی ذمہ داری ہے۔

میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ ’’اگر بہار میں ہماری حکومت آئی تو اس بل کو ہم کچرے کے ڈبے میں پھینک دیں گے۔ وقف کی لڑائی ایوان، سڑک اور عدلیہ تک جائے گی۔‘‘

تیجسوی یادو نے کہا کہ یہ بل آئین کے خلاف بل ہے، ہم نے اس کے خلاف پارلیمنٹ سے لیکر اسمبلی تک آواز اٹھائی ہے ،آپ کی اس لڑائی میں ہم ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہیں ،، اس لڑائی میں ہر کسی کو ایک ساتھ آنا ہوگا۔