Bharat Express DD Free Dish

Syria Crisis

امریکی فوجی حکام کے مطابق یہ آپریشن دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی مسلسل اور غیر متزلزل پالیسی کا حصہ ہے۔ سینٹکام نے واضح کیا کہ اس کارروائی کا مقصد امریکی فوجیوں اور اتحادی افواج پر ہونے والے ممکنہ حملوں کو روکنا، دہشت گرد عناصر کی صلاحیت کو کمزور کرنا

شام کے صدر احمد الشرع تاریخی دورے پر امریکہ پہنچ گئے ہیں۔ یہ دورہ کئی حوالوں سے اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ 1946 کے بعد پہلی مرتبہ کسی شامی صدر نے امریکہ کا سرکاری دورہ کیا ہے۔

فورم کے دوران ایک الگ پینل بحث میں بات کرتے ہوئے، الفالح نے کہا کہ شام مسلسل چیلنجز کے باوجود سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام کے طور پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا، "شام تمام تر چیلنجز کے باوجود سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ملک کے طور پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

شامی عبوری صدر احمد الشرع نے تمام اقلیتوں کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے، لیکن دروز برادری کے کچھ رہنماؤں، جیسے شیخ حکمت الحجری، نے سیز فائر کو مسترد کرتے ہوئے شامی فورسز پر دروز کے خلاف "جنگ چھیڑنے" کا الزام لگایا۔

یہ فیصلہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کے اصرار پر کیا گیا، جنہوں نے شام کی معاشی بحالی کے لیے پابندیوں کے خاتمے کی وکالت کی۔ شام کی نئی حکومت، جو احمد الشرع کی قیادت میں ہے، نے پابندیوں کو معاشی بحران اور تعمیر نو میں رکاوٹ قرار دیا تھا۔

سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں اضافی فوجی تعینات کر دیے ہیں تاکہ مزید حملوں کے خطرے کو روکا جا سکے۔ دمشق کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے، اور زخمیوں کے علاج کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

اس ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو گہرا کرنے، شام کی تعمیر نو، اور خطے میں استحکام کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایردوان نے شام کو ایک مستحکم اور خوشحال ملک بنانے کے لیے ترکی کی حمایت کا وعدہ کیا۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے کہا کہ ساحلی قصبوں بنیاس اور جبلہ کے مضافات اب بھی اسد کے وفاداروں کے کنٹرول میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسد کا آبائی شہر قردہہ اور آس پاس کے بہت سے علوی دیہات بھی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہیں۔

شام میں امریکہ کا التنف بیس اسرائیل کی سیکورٹی کے لئے بے حد خاص ہے۔ اگرامریکہ شام سے باہرنکلا تو یہ اسرائیل کے لئے اچھی خبر نہیں ہوگی۔ اسد حکومت کے خاتمہ کے بعد اسرائیل سے متصل شام سرحد سے اسرائیلی فوج کئی کلو میٹراندرتک آگئی ہے اوران کے قبضے کے خلاف شام میں غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔

اس کیس کی تحقیقات 2018 میں شروع کی گئی تھیں۔صالح ابو نابوت کے بیٹے عمر ابو نابوت کا کہنا ہے کہ ’یہ کیس انصاف کے لیے طویل جدوجہد کا نقطۂ عروج ہے اور مجھے اور میرے خاندان کو شروع سے ہی انصاف کی امید تھی۔