Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

سپریم کورٹ اور ملک بھر کی ہائی کورٹوں میں مفاد عامہ کی عرضیوں (پی آئی ایل) کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اب خود عدلیہ کو بھی سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف پی آئی ایل نے سماجی انصاف، ماحولیاتی تحفظ اور بنیادی حقوق کے تحفظ میں ایک مؤثر ہتھیار کا کردار ادا کیا ہے، وہیں دوسری جانب کئی عرضیاں محض تشہیری حربہ ثابت ہو رہی ہیں، جن سے قیمتی عدالتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے اُنّاؤ ریپ کیس میں کلدیپ سنگھ سینگر کی سزا معطل کرتے ہوئے ضمانت دے دی ہے۔ سی بی آئی نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اتراکھنڈ میں جنگلاتی اراضی پر بڑھتے ہوئے غیر قانونی قبضوں کے معاملے پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ریاستی حکومت اور متعلقہ افسران کے رویے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتہائی تشویشناک اور حیران کن ہے کہ حکام اپنی آنکھوں کے سامنے جنگلاتی زمین پر قبضوں کو خاموشی سے دیکھتے رہے۔

سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں نابالغ بچی کی دوبارہ گواہی کرانے سے انکار کرتے ہوئے گجرات ہائی کورٹ کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس کے ساتھ ہی ٹرائل میں غیر ضروری تاخیر پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اجمیر کے نظام الدین کالونی میں واقع 200 سال پرانی تکیہ مسجد کے بارے میں دائر درخواست مسترد کر دی، جس میں مہاکال مندر کے ساتھ واقع پارکنگ کی جگہ کی توسیع کے لیے مسجد کو گرائے جانے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس بی آر گوائی پر ایک وکیل کی جانب سے جوتا پھینکنے کے واقعے کو سنگین قرار دیتے ہوئے مستقبل میں ایسی وارداتوں کی روک تھام کے لیے رہنما اصول (گائیڈ لائنز) جاری کرنے کی ضرورت پر تشویش ظاہر کی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت مسئلے کی سنگینی سے بخوبی واقف ہے اور ایسے احکامات صادر کیے جائیں گے، جن پر عمل ممکن ہو۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ شہری طبقہ اپنی سہولتوں سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا، لیکن آلودگی کا سب سے بڑا بوجھ غریب اور مزدور طبقے کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے ملک بھر میں ایس آئی آر کے سلسلے میں مسلسل دائر ہونے والی عرضیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جائے مالیا باگچی کی بینچ نے کہا کہ یہ معاملہ قابو سے باہر ہو گیا ہے اور بہت ساری عرضیوں پہلے ہی دائر ہو چکی ہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اب مجھے نہیں لگتا کہ مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر سے متعلق نئی عرضیوں قبول کی جانی چاہئیں۔

دہلی فساد معاملے میں ملزم عمرخالد کو بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے انہیں بہن کی شادی میں شامل ہونے کے لئے 16 سے 29 دسمبرتک عبوری ضمانت دی ہے۔ اس دوران عمرخالد سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کرپائیں گے۔ وہ صرف فیملی اور رشتہ داروں سے ملاقات کر سکیں گے۔

ملک کے متعدد ریٹائرڈ ججوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف حالیہ منظم مہم کی سخت مذمت کی ہے۔ یہ مہم اُس وقت سامنے آئی جب روہنگیا مہاجرین سے متعلق ایک عدالتی سماعت کے دوران چیف جسٹس کی جانب سے کیے گئے ایک قانونی سوال کو غلط رنگ دیتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ سابق ججوں نے کہا کہ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر عدلیہ کو کمزور کرنے اور ججوں کی نیت پر حملہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔