Urdu Conclave 2026

Supreme Court

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے گیان واپی مسجد کے تہہ خانہ پر عدالت کے فیصلے سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بورڈ نے جمعہ کے روز منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ گیان واپی میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے ہمیں صدمہ پہنچا ہے۔

جمعہ (2 فروری 2024) کو سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس سنجیو کھنہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ آپ ہائی کورٹ کیوں نہیں جاتے؟ ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔ میرے ساتھی جج بھی اس سے متفق ہیں۔ ہم براہ راست سپریم کورٹ میں دائر اس درخواست کی سماعت نہیں کر سکتے۔

گیان واپی کے تہہ خانہ میں پوجا کا حق ملنے کے بعد سے ہندو فریق نے پوجا شروع کردی ہے۔ وہیں مسلم فریق نے پوجا رکوانے کے لئے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

گیان واپی مسجد میں سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں اوربڑی تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔ ان کی موجودگی میں پوجا کی رسم ادا کی جا رہی ہے اور بڑی تعداد میں لوگ پوجا کرنے پہنچ رہے ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے پیر (29 جنوری) کو الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم پراسٹے کو بڑھا دیا، جس میں شاہی عید گاہ مسجد کے لئے کمیشن تشکیل کرنے کی بات کہی گئی تھی۔

چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ نے سپریم کورٹ کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "سپریم کورٹ کا قیام اس مثالی جذبے کے ساتھ کیا گیا تھا کہ آئینی عدالت قانون کی حکمرانی کے مطابق تشریح کرے گی ۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ اب ہم نے اس معاملے میں چارج سنبھال لیا ہے۔ سی بی آئی کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اے جی اور ایس جی کو نوٹ داخل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

وہ 29 اپریل 1992 تک سپریم کورٹ میں اس عہدے پر رہیں۔ حالانکہ، ریٹائرمنٹ کے بعد بھی فاطمہ بیوی نے کام کی رفتار کم نہیں کی اور قومی انسانی حقوق کمیشن کی رکن بن گئیں۔

جب ڈویژن بنچ نے پوچھا کہ کیا عرضی گزار اسٹیج کیریج پرمٹ یا کنٹریکٹ کیریج پرمٹ مانگ رہا ہے، چتامبریش نے کہا کہ تنظیم صرف مفت خدمات فراہم کرنا چاہتی ہے، جس کی حکومت اجازت نہیں دے رہی ہے۔

ٹھاکر کی عرضی میں کہا گیا ہے کہ نئی حد بندی کے بعد ناری شکتی وندن ایکٹ 2023 کو لاگو کرنے کی شق کو ہٹا دیا جائے۔ اس قانون کو 2024 میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل اس کی حقیقی روح کے ساتھ نافذ کیا جانا چاہیے۔