Bharat Express DD Free Dish

Strategic Partnership

روسی صدر پوتن نے وزیراعظم نریندر مودی کو ’’بااعتماد ساتھی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ  بھارت-روس تعلقات تاریخی اور خصوصی نوعیت کے ہیں۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف صدر پتن کے دورے سے قبل بھارت آئیں گے۔ سربراہی اجلاس کی تیاری اور اہم دوطرفہ معاملات پر گفتگو کا امکان۔

وزیراعظم وونگ نے کہا کہ سنگاپور بھارت کی اسکل ڈیولپمنٹ کی پہل کی حمایت جاری رکھے گا اور ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ منصوبوں میں تعاون کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہوگا۔

’’چین اور ہندوستان مشرق کی دو قدیم تہذیبیں ہیں۔ ہم دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے اہم اراکین ہیں۔ دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اپنے عوام کی فلاح، ترقی پذیر ممالک میں یکجہتی و بیداری، اور انسانی معاشرے کی پیشرفت کو فروغ دیں۔‘‘

اجلاس کے دوران وزیراعظم مودی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی ملاقات کریں گے۔ یہ اجلاس اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ کی 50 فیصد ٹیرف نافذ ہو چکی ہیں، جن میں سے 25 فیصد محصول بھارت پر روسی خام تیل خریدنے پر لگایا گیا ہے۔

وزیراعظم مودی جاپان کے دورے کے دوران ایک بزنس لیڈرز فورم میں بھی شرکت کریں گے، جس میں دونوں ممالک کے بڑے صنعتی رہنما شامل ہوں گے۔ یہ ملاقاتیں تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعلقات کو گہرا کرنے کے لیے اہم قرار دی گئی ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی اور فجی کے وزیراعظم سیتی وینی رابوکا کی مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق، ہند-فجی تعلقات میں تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے، جس کا مقصد انڈو پیسفک خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔ اس سال کے آخر میں ایک بھارتی بحری جہاز فجی کی بندرگاہ پر خیرسگالی دورہ کرے گا۔

25 سے 28 اگست تک جاری رہنے والے دورے میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں، فوجی اداروں کے دورے اور دفاعی صنعت میں تعاون کے امکانات پر بات چیت کا امکان۔ وزارت دفاع کے بیان کے مطابق اس دورے سے بھارت اور الجزائر کے درمیان تاریخی تعلقات کو مزید گہرا کرنے، مشترکہ سکیورٹی مفادات کو آگے بڑھانے، علاقائی استحکام کو فروغ دینے اور دفاعی تعاون کو وسعت دینے میں مدد ملے گی۔

یہ دورہ وزیراعظم نریندر مودی کے آئندہ دورۂ چین سے قبل ہو رہا ہے۔ مودی 31 اگست سے یکم ستمبر تک تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ حالیہ مہینوں میں بھارت اور چین کے تعلقات میں بہتری کے لیے کئی اہم اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں، جن میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔

حالیہ برسوں میں بھارت اور آسٹریلیا کے تعلقات میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق، باہمی تعاون موجودہ ڈھانچوں سے آگے بڑھ کر نئے شعبوں میں بھی وسعت اختیار کر چکا ہے، جس سے دوطرفہ اور عالمی سطح پر نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ ملاقات دو فوجی پیشہ وروں کی ایک اہم ملاقات تھی، جن کا مشترکہ ماضی بھارت-آسٹریلیا دفاعی تعلقات کی بنیاد کو مزید مضبوط بناتا ہے۔