Bharat Express DD Free Dish

Strategic Partnership

دو بڑی جمہوریتوں کے درمیان مضبوط شراکت داری۔ سی آئی پی ایف کے قیام کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب بھارت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے اور تیز رفتار ترقی کی جانب گامزن ہے، جبکہ برطانیہ عالمی سیاست، تجارت اور سلامتی کے شعبوں میں ایک مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔

عُمان کا یہ دورہ وزیراعظم مودی کے تین ملکی غیر ملکی دورے کا اختتام تھا، جس سے مغربی ایشیا کو بھارت کی خارجہ پالیسی میں دی جانے والی ترجیح واضح ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں وزیراعظم مودی متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، سعودی عرب، اردن اور عمان کا دورہ کر چکے ہیں۔

گزشتہ 11 برسوں میں وزیر اعظم مودی نے بھارت-افریقہ تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل دی ہے۔ حالیہ دوروں سے تجارت، تعلیم، صحت اور ثقافتی روابط کو نئی سمت ملی ہے۔

دفاعی شعبے میں بھی بھارت اور بحرین مشترکہ تعاون کر رہے ہیں۔ خاص طور پر سمندری سلامتی، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیاں، خلیجی خطے میں استحکام، بحری افواج کے درمیان تربیتی پروگرام، ہائی لیول سکیورٹی ڈائیلاگ دونوں ممالک کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ بحرین اور بھارت کے درمیان پیسج ایکسرسائزز، مشترکہ تربیت اور انٹیلی جنس تعاون بھی جاری ہے۔

بھارت نے یہ طیارے پہلی بار 2011 میں حاصل کیے تھے۔ دنیا بھر میں C-130J بیڑے میں 23 ممالک شامل ہیں، جہاں 560 سے زیادہ طیارے اب تک 30 لاکھ سے زائد پروازیں مکمل کر چکے ہیں۔ اس پیش رفت کو دفاعی مینوفیکچرنگ اور عالمی سپلائی چین میں بھارت کے بڑھتے کردار کی مضبوط علامت قرار دیا جا رہا ہے، اور ماہرین اسے دفاعی صنعت کی خود انحصاری کی سمت ایک بڑا قدم سمجھتے ہیں۔

چار سال بعد پوتن کا بھارت کا اہم ترین دورہ ہورہا ہے۔ پوتن وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ 23ویں سالانہ بھارت۔روس سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ پوتن کے دورۂ بھارت سے قبل روس نے ایک اہم دفاعی معاہدے کی منظوری دی ہے۔

سری لنکا میں طوفانی تباہی، بھارت کا اظہارِ ہمدردی اور تعاون کا وعدہ۔ سری لنکا میں تباہ کن سمندری طوفان دتواہ سے 334 افراد ہلاک، ہزاروں بے گھر ہوئے ہیں۔ بھارت کا فوری امدادی مشن سرگرم ہے اور لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔

وزیراعظم مودی نے ہفتے کے روز جی20 اجلاس کے موقع پر برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس، برازیل کے صدر لولا دا سلوا، اٹلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی اور دیگر عالمی لیڈران سے بھی ملاقات کی۔

بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان اس معاہدے پر کافی عرصے سے بات چیت جاری ہے۔ اس سال جنوری میں انڈونیشیا کے اعلیٰ سیاسی اور فوجی وفد کے دورۂ نئی دہلی کے دوران اس معاملے پر تفصیل سے غور کیا گیا تھا۔

وزیراعظم مودی نے جاپان کی وزیراعظم سانے تاکائچی کو فون پر مبارکباد دی، اقتصادی سلامتی، دفاعی تعاون اور ہنرمند افراد کی نقل و حرکت پر بات چیت۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت-جاپان خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔