Bharat Express DD Free Dish

Strategic Partnership

سمٹ کی رہنمائی تین بنیادی ستونوں عوام، سیارہ اور ترقی کے تحت کی جا رہی ہے۔ یہ ستون عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون کے بنیادی اصول بیان کرتے ہیں، جن میں انسانی حقوق کے تحفظ کے ساتھ انسان مرکز اے آئی، ماحولیاتی طور پر پائیدار ترقی، اور جامع معاشی و تکنیکی پیش رفت شامل ہیں۔

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے موقع پر توانائی، روابط اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق۔ وزیراعظم مودی نے ملاقات کو ’’شاندار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور بھوٹان کی دوستی نئے اور تبدیلی لانے والے شعبوں تک پھیل رہی ہے۔

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 16 تا 20 فروری بھارت منڈپم نئی دہلی میں منعقد ہوگی۔ اس میں سربراہان مملکت و حکومت، بین الاقوامی تنظیمیں، ماہرین مصنوعی ذہانت اور دنیا کی سرکردہ اے آئی کمپنیاں شریک ہوں گی۔ سمٹ کا مقصد عالمی اے آئی گورننس کے اصولوں پر مشترکہ فہم کو فروغ دینا اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

برازیل نے بھارت میں 500 نشستوں پر مشتمل آڈیٹوریم دو دن کے لیے کرایے پر لیا ہے تاکہ صدر لولا اور بھارتی صنعت کاروں کے درمیان براہ راست ملاقاتیں ہو سکیں اور برازیل میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ برازیلی حکام کے مطابق یہ دورہ عالمی سطح پر صدر لولا کی مؤثر قیادت اور برازیل کے عالمی کردار کو مضبوط بنانے کی کوشش کا حصہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سیاست میں مسابقت بڑھ رہی ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ، علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جس کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں سات مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے۔ نوین رام غلام نے کہا بھارت اور ماریشس ترقی، اختراع اور جدید ٹیکنالوجی میں اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔

مشترکہ پریس کانفرنس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان حیدرآباد ہاؤس میں دو طرفہ ملاقات ہوئی۔ سیشلز کے صدر پیٹرک ہرمنی نے اس سے قبل راج گھاٹ جا کر مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ وزارت خارجہ نے ایک پوسٹ میں کہا کہ گاندھی جی کے اصول آج بھی بھارت-سیشلز شراکت داری کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

اقتصادی تعاون، دفاع، سلامتی، صاف توانائی، زراعت، مینوفیکچرنگ اور اسکل ڈیولپمنٹ سمیت کئی شعبوں میں شراکت داری مضبوط بنانے پر تفصیلی گفتگو۔ وزیر اعظم مودی اور انور ابراہیم کے درمیان ہونے والی یہ اہم ملاقات نہ صرف بھارت–ملیشیا تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بنی بلکہ اس نے اقتصادی، دفاعی اور سماجی شعبوں میں نئے امکانات کے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔

اڈانی ڈیفنس اور ایرو اسپیس کی اسٹریٹجک شراکت داری، بھارت میں ہیلی کاپٹر مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم تیار کیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے ایمبریئر اور اڈانی ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس کے درمیان ریجنل ٹرانسپورٹ ایئرکرافٹ ایکو سسٹم کی تیاری کے لیے مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط ہوئے تھے، جس کا مقصد بھارت میں ایئرکرافٹ مینوفیکچرنگ، سپلائی چین، آفٹر مارکیٹ سروسز اور پائلٹ ٹریننگ میں تعاون ہے۔

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، صدر محمد بن زاید کے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا بھارت کا تیسرا سرکاری دورہ ہوگا۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی تعلقات 1972 میں قائم ہوئے تھے۔ یو اے ای نے اسی سال بھارت میں اپنا سفارت خانہ کھولا، جبکہ بھارت نے 1973 میں ابو ظہبی میں اپنا سفارت خانہ قائم کیا۔

جرمن کاروباری رہنماؤں نے اعتماد، مشترکہ اقدار اور اختراعات سے لے کر دفاع اور پائیدار نقل و حمل تک تعاون کے وسیع امکانات اجاگر کیے۔ اختراعات، ایرو اسپیس، دفاع، مینوفیکچرنگ اور پائیدار نقل و حمل جیسے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود۔