Bharat Express DD Free Dish

Strategic Partnership

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت اور کینیڈا کے تعلقات کو معمول پر لانے کا عمل جاری ہے، اور پیر کو ہونے والے مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان اہم اسٹریٹجک اور اقتصادی امور پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

نوجوانوں اور اختراع کاروں کو جوڑنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ’’انڈیا۔اسرائیل اکیڈمک فورم‘‘ کے قیام کا اعلان بھی کیا، جس کے ذریعے طلبہ، محققین اور جدت کاروں کے درمیان اشتراک کو فروغ دیا جائے گا۔

وزیراعظم نریندر مودی اور صدر اسحاق ہرزوگ نے صدارتی گارڈن میں ’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ مہم کے تحت پودا بھی لگایا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے صدر ہرزوگ کو بھارت کے دورے کی باضابطہ دعوت بھی دی۔

وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے کنیست میں خطاب سے پہلے وزیراعظم مودی کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں اسرائیل کا عظیم دوست اور عالمی سطح کا قائد قرار دیا۔ 

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہ دورہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان مضبوط اور کثیر جہتی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات نے حالیہ برسوں میں نمایاں ترقی اور تحرک دیکھا ہے۔ اپنے دو روزہ دورے کے دوران وزیر اعظم مودی اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کریں گے اور اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب بھی کریں گے۔

دورے کے دوران وزیراعظم مودی اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کریں گے اور اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب بھی کریں گے۔ وہ کنیسٹ سے خطاب کرنے والے پہلے بھارتی وزیراعظم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطاب دونوں ممالک کے مضبوط پارلیمانی اور جمہوری تعلقات کا اعتراف ہوگا۔ 

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی اور دفاع میں نئی شراکت داری پر توجہ۔ بھارت کو دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی بڑی معیشت اور عالمی تجارت و ٹیکنالوجی کا اہم مرکز قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون مستقبل میں اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا۔

اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق وزیراعظم مودی اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب کریں گے اور یروشلم میں ایک تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔ اس مجوزہ دورے کو ہند-اسرائیل تعلقات میں ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے دو طرفہ تعاون کو نئی سمت ملنے کی توقع ہے۔

نیتن یاہو نے بھارت کے ساتھ مل کر انتہاپسندی کے خلاف ایک مضبوط گروپ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ اور اس کے اطراف ایک ایسا نظام قائم کرنا چاہتا ہے جو مختلف اتحادی ممالک پر مشتمل ہو۔ ان کے مطابق اس اتحاد میں بھارت، یونان، قبرص اور بعض عرب، افریقی اور ایشیائی ممالک شامل ہو سکتے ہیں۔

فرانس کے صدر میکروں نے بھارت کی ڈیجیٹل تبدیلی کی ستائش۔ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے موقع پر بھارت–فرانس اسٹریٹجک شراکت داری پر تبادلۂ خیال۔