Bharat Express DD Free Dish

Strategic Partnership

پی ایچ ڈی سی سی آئی کے جنرل سکریٹری اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر رنجیت مہتا نے کہا کہ اس دورے کے نتائج بھارت کی ’’ایکٹ ایسٹ پالیسی‘‘ کو مزید مضبوط کریں گے، کیونکہ اس سے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ تزویراتی تعاون میں توسیع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ویتنام کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون رابطہ کاری، تجارتی استحکام اور اہم شعبوں میں طویل مدتی صنعتی شراکت داری کو تقویت دے گا۔

اس دوطرفہ ملاقات میں دفاع، تجارت، معیشت اور علاقائی و عالمی مسائل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال نے بھی ویتنامی صدر سے ملاقات کی اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ 

صدر تو لام اپنے دورے کے دوران ممبئی بھی جائیں گے، جہاں وہ نیشنل اسٹاک ایکسچینج میں بزنس فورم میں شرکت کریں گے اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ہندوستان اور ویتنام اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے 10 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔ ہندوستان اور ویتنام کے درمیان تاریخی، تہذیبی اور اقتصادی روابط پہلے ہی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں اور اس دورے سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ تعلقات مزید گہرے ہوں گے اور نئے شعبوں میں تعاون کے مواقع پیدا ہوں گے۔

بھارتی سفارت خانے کے مطابق، اجیت ڈووال نے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے نیک خواہشات بھی پیش کیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید گہرا کرنے، علاقائی سکیورٹی اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے انڈو پیسفک خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ 2010 کے جامع اقتصادی شراکت معاہدے کے بعد قائم ہونے والی رفتار کو مزید تیز کیا جائے گا اور تفریح سے لے کر توانائی تک ہر شعبے میں تعاون کو وسعت دی جائے گی۔ 

وزیراعظم مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں یہ شراکت داری نہایت اہم ہے، خاص طور پر مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں، جہاں 2026 سے جاری تنازعات نے عالمی سلامتی اور تجارتی راستوں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ہندوستان اور کوریا کا اتحاد امن اور استحکام کا واضح پیغام دیتا ہے۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے صدر لی سے ملاقات کے بعد کہا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ وزیراعظم مودی کے ساتھ ہونے والی بات چیت اس شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔

چانسلر اسٹوکر اس دورے پر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ہیں، جس میں معیشت، توانائی اور سیاحت کے وفاقی وزیر سمیت سینئر عہدیداران اور کاروباری رہنما شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دورے میں اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔  بھارت اور آسٹریا کے تعلقات دوستانہ اور کثیر جہتی نوعیت کے حامل ہیں، جو مشترکہ جمہوری اقدار پر مبنی ہیں۔

یہ دورہ وزیر اعظم مودی کے 2024 کے دورۂ آسٹریا کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیدا ہونے والی رفتار کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے سے نہ صرف اقتصادی بلکہ اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی نئی جہت ملے گی۔