Bharat Express DD Free Dish

Strategic Partnership

2.9 ارب ڈالر کے معاہدے سے نیروبی کے جومو کینیاٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی توسیع و جدیدکاری ہوگی۔ اڈانی گروپ کا مجوزہ منصوبہ 2024 میں منسوخ کر دیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ 2045 تک کے 20 سالہ ماسٹر پلان کا حصہ ہے، جس کے تحت رن وے، مسافر ٹرمینلز، طیاروں کی پارکنگ، رسائی سڑکوں اور دیگر معاون سہولیات کو جدید بنایا جائے گا۔

صدر لی جے میونگ نے اس امید کا اظہار کیا کہ بھارت اور جنوبی کوریا اقتصادی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، اختراع، تجارت اور عالمی امور میں اشتراک کو مزید فروغ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات خطے میں استحکام اور خوشحالی کے لیے بھی اہم ہیں۔

کینیا کے صدر نے بھارت اور کینیا کے درمیان مضبوط اور دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک بھارت کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے مشترکہ مفادات کے پیشِ نظر باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

مالدیپ کے صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ مسلسل مدتِ اقتدار کے اعتبار سے ہندوستان کے طویل ترین منتخب وزیر اعظم بننا ایک غیر معمولی سنگِ میل ہے، جو وزیر اعظم مودی کی قیادت پر ہندوستانی عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

مودی کی قیادت پر دنیا کا اعتماد، نائیجیریا کے صدر بولا احمد تینوبو کی زبردست ستائش۔ ہندوستان کے طویل ترین مدت تک خدمات انجام دینے والے منتخب وزیراعظم بننے پر نریندر مودی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی سطح پر کروڑوں لوگوں کے لیے باعث تحریک ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان 26 مئی کو کواڈ ممالک ہندوستان، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کرے گا۔ اجلاس میں انڈو پیسیفک کی بدلتی سکیورٹی صورتحال اور مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی سمیت کئی اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور امریکہ عالمی بھلائی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر بھی زور دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں انہیں کئی بار جارجیا میلونی سے ملاقات کا موقع ملا، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میلونی کی قیادت میں بھارت اور اٹلی کے تعلقات کو نئی رفتار، نئی سمت اور نیا اعتماد ملا ہے۔

مشترکہ مضمون میں ’’انڈو-میڈیٹرینین کاریڈور‘‘ کے تصور پر بھی زور دیا گیا، جسے ہند-بحرالکاہل اور بحیرہ روم کے درمیان ابھرتے ہوئے تجارتی، توانائی، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک رابطوں کے نئے نظام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

ولادیمیر پوتن اور شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ روس اور چین کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری غیر معمولی بلندی تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اہم سربراہی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ چند روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بیجنگ کا دورہ کیا تھا۔