نیس: وزیراعظم نریندر مودی کا اتوار کو فرانس کے شہر نیس پہنچنے پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور گلے مل کر خیرمقدم کیا، جس کے بعد وہ ایک اہم دوطرفہ پروگرام میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے۔ وزیراعظم مودی اور صدر میکروں مشترکہ طور پر ’بھارت اِنووویٹس 2026‘ کانکلیو کا افتتاح کر رہے ہیں، جو بھارت، فرانس اور دیگر ممالک کے ممتاز اسٹارٹ اپس اور وینچر کیپیٹل فنڈز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے والا عالمی سطح کا اہم پروگرام ہے۔ 14 سے 16 جون تک جاری رہنے والا یہ تین روزہ اجلاس ہند-فرانس اختراع سال (India-France Year of Innovation) کا ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔ اس کانکلیو کا مقصد بھارتی اختراع کاروں، عالمی سرمایہ کاروں، صنعت کاروں اور تعلیمی اداروں کے درمیان روابط کو فروغ دینا ہے۔
ٹیکنالوجی اور اختراع پر خصوصی توجہ
اس پروگرام میں 120 سے زائد بھارتی ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس اور 15 سے زیادہ اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی ادارے، جن میں ممتاز آئی آئی ٹیز بھی شامل ہیں، شرکت کر رہے ہیں۔ کانکلیو میں جدید کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز، خلائی ٹیکنالوجی، دفاعی اختراعات، بایو ٹیکنالوجی، صحت عامہ اور موسمیاتی تبدیلی کے حل جیسے مستقبل کے اہم شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ پلیٹ فارم بھارت کے لیے اپنی جدید تکنیکی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پیش کرنے، بین الاقوامی سرمایہ کاری حاصل کرنے اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں نئی شراکت داریاں قائم کرنے کا بہترین موقع فراہم کرے گا۔
ہند-فرانس اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت
دونوں رہنماؤں کی یہ ملاقات اس سال دوطرفہ تعلقات کو ’’خصوصی عالمی اسٹریٹجک شراکت داری‘‘ کی سطح تک بلند کیے جانے کے بعد پہلی باقاعدہ سربراہی ملاقات بھی ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارت اور فرانس کے درمیان دفاع، خلائی تحقیق، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ نیس میں ہونے والا یہ اجلاس دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی اور اختراع پر مبنی تعاون کو مزید وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


