Bharat Express DD Free Dish

global cooperation

دو روزہ اجلاس میں تین بنیادی موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔ ان میں تخلیقی معیشت، ثقافتی و تخلیقی صنعتیں، کاپی رائٹ اور مصنوعی ذہانت (AI)، ثقافتی ورثے کا تحفظ اور ثقافتی املاک کی واپسی، نیز ثقافت، موسمیاتی تبدیلی اور پائیدار ترقی شامل ہیں۔

سنائے تاکائیچی نے کہا کہ وہ بھارت کی ثقافت اور وزیراعظم مودی کی گرمجوش مہمان نوازی کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی کے ساتھ قائم ہونے والے باہمی اعتماد کی بنیاد پر دونوں ممالک آئندہ سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ہند-جاپان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

ہندوستان اور جاپان کے تعلقات صدیوں پر محیط تہذیبی، ثقافتی اور روحانی روابط پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 1952 میں قائم ہوئے، 2000 میں انہیں عالمی شراکت داری، 2006 میں اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری اور 2014 میں خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کا درجہ دیا گیا۔

سنائے تاکائیچی یکم سے 3 جولائی تک تین روزہ سرکاری دورے پر ہندوستان میں ہیں۔ اس دوران وہ 16ویں ہند-جاپان سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کر رہی ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں کا جائزہ لیا جائے گا اور علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال ہوگا۔

یہ بھارت کا ان کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔ اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے اگست 2025 میں ٹوکیو کا دورہ کیا تھا، جہاں 15واں ہند-جاپان سالانہ سربراہ اجلاس منعقد ہوا تھا۔ موجودہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان خصوصی تزویراتی اور عالمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے اس دورے کو بھارت اور سیشلز کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ انتہائی کامیاب رہا۔ وزارت کے مطابق سیشلز کے نائب صدر نے خصوصی طور پر ہوائی اڈے پر وزیراعظم کو رخصت کیا، جو دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کی علامت ہے۔ 

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ دونوں ممالک نے مستقبل میں اقتصادی، ثقافتی اور سماجی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے اور باہمی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور جنوبی کوریا اپنے تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری مزید مضبوط ہوسکے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے سلوواک ہم منصب رابرٹ فیکو کے ساتھ وفود کی سطح پر اہم مذاکرات کیے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، اختراع، آٹوموبائل صنعت، ریلوے ترقی اور دیگر اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی روابط کو مزید آگے بڑھانے اور دوطرفہ تعلقات کو نئی توانائی فراہم کرنے کا موقع ہے۔ یہ دورہ گزشتہ برس دروپدی مرمو کے سلوواکیہ دورے اور رواں سال فروری میں صدر پیٹر پیلیگرینی کے بھارت کے دورے کے تسلسل میں دیکھا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل گرمجوشی پیدا ہوئی ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم مودی نے صدر میکروں کی شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور فرانس عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ ایک دوسرے کے قابلِ اعتماد شراکت دار رہے ہیں۔ انہوں نے انٹرنیشنل سولر الائنس، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون اور بھارت-بحرالکاہل خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کا بھی ذکر کیا۔