Bharat Express DD Free Dish

Shiv Sena

مہاراشٹرکے کارگزار وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے اور جتیندر اوہاڈ کی جمعہ کے روز ملاقات ہوئی۔ جتیندراوہاڈ مسلسل ایکناتھ شندے پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔

ایکناتھ شندے نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں ناراض نہیں ہوں، بلکہ لڑنے والا ہوں۔ میں نے پی ایم مودی سے واضح کردیا ہے کہ میری وجہ سے مہاراشٹر میں حکومت بنانے میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ میں پی ایم مودی-امت شاہ کے فیصلے کا احترام کروں گا۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ بی جے پی ہائی کمان کے فیصلے کی وہ مخالفت نہیں کریں گے۔

مہاراشٹرمیں وزیراعلیٰ سے متعلق فیصلہ آسان نہیں ہے۔ بی جے پی اورایکناتھ شندے گروپ دونوں ہی وزیر اعلیٰ عہدے پردعویداری چھوڑتے ہوئے نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ 

شیو سینا شندے گروپ کے سربراہ ایکناتھ شندے نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ منگل کو انہوں نے اپنا استعفیٰ بی جے پی اراکین اسمبلی کی میٹنگ سے ٹھیک پہلے دیا۔

ایک ویڈیو میں یامنی جادھو برقعے بانٹتی نظر آرہی ہیں، جب کہ دوسری ویڈیو میں وہ کہہ رہی ہیں کہ یہ تقسیم آئندہ ریاستی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے نہیں کی جارہی ہے۔ شیوسینا رکن اسمبلی یامنی جادھو نے ویڈیو میں کہا کہ اگر اپوزیشن سمجھتی ہے کہ برقع، حجاب تقسیم کرنے سے یامنی جادھو انتخابات میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے ایسا قدم اٹھا رہی ہیں۔

امت شاہ کی ممبئی آمد کے بارے میں شیوسینا لیڈر نے کہا کہ انہیں منی پور جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا، "منی پور حملے کی زد میں ہے۔ آج بھی منی پور میں خواتین پر تشدد ہو رہا ہے اور ملک کے وزیر داخلہ ممبئی آ کر مزے کر رہے ہیں۔

مہاراشٹرمیں اسی سال اسمبلی الیکشن ہونے ہیں۔ اس سے پہلے سیٹوں کی تقسیم سے متعلق میٹنگوں کا دورجاری ہے۔ وہیں اجیت پوارنے کہا ہے سیٹوں کی تقسیم سے متعلق وہ دوبارہ میٹنگ کریں گے، جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ کون کس سیٹ سے الیکشن لڑے گا۔

شیوسینا لیڈرکے بیان پربی جے پی کے وزیررویندر چوہان نے کہا کہ رام داس کدم ایک سینئرلیڈر ہیں اوراس طرح کی زبان ان کو زیب نہیں دیتی۔

ادھو ٹھاکرے اور سینئر بی جے پی لیڈر دیویندر فڈنویس کی اچانک ممبئی کے اسمبلی کمپلیکس میں ملاقات ہوئی۔ اس دوران دونوں لیڈروں نے ایک دوسرے کوآداب کیا اور دونوں لیڈران کچھ باتیں کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

شندے نے 16 جون کو حیرت کا اظہار کیا کہ کیا ممبئی نارتھ ویسٹ حلقہ کے تعلق سے ای وی ایم  پر شکوک و شبہات صرف اس لیے اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ فاتح ان کی پارٹی شیوسینا تھی