Bharat Express DD Free Dish

Shiv Sena

پرینکا چترویدی نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا اپنا ذاتی وعدہ پورا، والدین سے ملاقات کرکے والد کی لکھی کتاب خود حاصل کی

سنجے راوت نے ’ون نیشن، ون الیکشن‘ کے معاملے پر بھی این ڈی اے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس تجویز پر چاہے جتنی میٹنگز، بحث یا غور و فکر کرلیا جائے، 2029 میں موجودہ حکمران اتحاد کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے امکانات نہیں ہیں۔ ان کے اس دعوے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

22 جولائی کو سپریم کورٹ نے چھ باغی ارکان کے انضمام پر فوری طور پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس وقت عدالت نے لوک سبھا اسپیکر، لوک سبھا کے سکریٹری اور ان چھ ارکانِ پارلیمنٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا تھا۔ عدالت نے جواب دہندگان سے جواب طلب کرتے ہوئے معاملے کی سماعت دو ہفتے بعد مقرر کی تھی۔

ملاقات کے دوران وزیر اعظم مودی نے پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے اور نئے ارکان پارلیمنٹ کو پارلیمانی کارروائی میں فعال کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے ارکان سے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کی شاندار تاریخ، ماضی کی اہم بحثوں اور پرانے مباحث سے متعلق مواد کا مطالعہ کریں اور اسے اپنی تیاری کے لیے استعمال کریں۔

ادھو ٹھاکرے کو مہاراشٹرمیں دھچکے کے بعد دھچکا لگا ہے۔ اب، لوک سبھا سکریٹریٹ نے اپنے باغی ممبران پارلیمنٹ کے ایکناتھ شندے کے گروپ کے ساتھ انضمام کی منظوری دے دی ہے۔

 شیوسینا (یوبی ٹی) کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے راوت نے کہا کہ شرد پوارسے ہمارے اچھے تعلقات ہیں، لیکن ہمارے لئے'غداری' کا مطلب 'غداری' ہے۔ شرد پوار یقینی طور پر بڑے اور محترم لیڈر ہیں، لیکن جن لوگوں نے ان کی حکومت گرائی، ان کے دفتر میں جاکر میٹنگ کرنا کسی بڑے لیڈر کے بھروسے کو کم کرتا ہے۔

 ایودھیا کے رام مندرمیں مبینہ چندہ چوری سے متعلق سیاست کافی تیزہوگئی ہے۔ شیوسینا (یوبی ٹی) کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے راوت نے رام مندرٹرسٹ کوبرخاست کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے آرگنائزڈ کرائم (منظم جرائم) قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس گھوٹالے میں کئی لوگ شامل ہیں۔

مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) نے مہاراشٹر قانون ساز کونسل عہدہ کے لئے ایم وی اے نے امیدوار اتار دیا ہے۔ مہا وکاس اگھاڑی کی طرف سے جے ایم ابھینکرکو امیدوار بنایا گیا ہے۔ اس عہدے کے لئے الیکشن آئندہ روز بدھ یعنی یکم جولائی کو ہونا ہے۔

 مہاراشٹر حکومت میں وزیر ادے ساونت نے کہا-"ہم ان کا استقبال کریں گے کیونکہ ان کو معلوم ہوگیا ہے کہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی جو قیادت ہے، وہ آگے جاکر ان کو طاقت دے سکتا ہے۔ اب ان کو بھی سمجھ میں آیا ہوگا کہ وہیں جانا پڑے گا اور اگر آنے والے ہیں تو ان کا استقبال کریں گے۔"

حالیہ سیاسی پیش رفت کو شیو سینا (ادھو) کے لیے ایک اور بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ پارٹی پہلے ہی اندرونی اختلافات اور ممکنہ بغاوت کی قیاس آرائیوں کا سامنا کر رہی تھی۔ حال ہی میں چھ ارکانِ پارلیمنٹ نے پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی، جس کے بعد جماعت میں ممکنہ تقسیم کی خبریں زور پکڑگئی تھیں۔