Bharat Express DD Free Dish

Sharad Pawar

آخری بار شرد پوار نے ملکارجن کھرگے اور راہل گاندھی سے 31 اگست اور 1 ستمبر کو ممبئی میں ہونے والی اپوزیشن اتحاد کی میٹنگ کے دوران ملاقات کی تھی۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد کا ایک اور اجلاس جلد ہونے کا امکان ہے۔

سنجے سنگھ کی گرفتاری پر این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے کہا کہ مرکزی تفتیشی ایجنسی کی کارروائی سے انڈیا اتحاد مزید مضبوط ہوگا۔ ساتھ ہی شرد پوار نے دہلی کی لوک سبھا سیٹوں کے حوالے سے بھی اپنی رائے ظاہر کی۔ پوار نے کہا کہ دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے حال ہی میں ان سے کہا تھا کہ عام آدمی پارٹی قومی راجدھانی میں سات میں سے تین سیٹیں کانگریس کو دینے کے لیے تیار ہے۔

سپریہ سولے نے ٹویٹ کر کے کہا، یہ ایکناتھ شندے کی خونی ٹرپل انجن والی حکومت ہے۔ ای ڈی ، سی بی آئی اور  انکم ٹیکس کا استعمال کرکووڈ میں اچھا کام کررہی  ادھو جی کی حکومت کو گرانے کا کام  بی جے پی نے کیا ہے

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا میڈیم پر لکھا کہ حکومت اپنی تشہیر پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کرتی ہے، لیکن بچوں کی دوائیوں کے لیے پیسے نہیں ہیں؟ بی جے پی کی نظر میں غریبوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔

خالصتان کے حامی ہردیپ سنگھ نجر کے قتل پر ہندوستان اور کینیڈا کے درمیان تنازع جاری ہے۔ اسی بیچ شرد پوار نے کہا کہ ایک ہندوستانی شہری اور پارلیمنٹ کا رکن ہونے کے ناطے میں حکومت ہند کی خارجہ پالیسی کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔

این سی پی سربراہ شرد پوار کے بھتیجے اجیت پوار نے 30 جون کو پارٹی کے فیصلے کے خلاف مہاراشٹر میں بی جے پی-شیو سینا اتحادی حکومت میں شامل ہوگئے۔ پارٹی کے بیشتر اراکین اسمبلی بھی ان کے تئیں وفاداری دکھاتے ہیں۔

انڈیا اتحا د کی  ریلی میں مہنگائی، بے روزگاری اور بی جے پی کی بدعنوانی کے مسائل کو زوروں سے اٹھایا جائے گا۔ ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ انڈیا اتحاد کا کوئی لیڈر چند میڈیا گروپس کے اینکرز کے شوز میں شرکت نہیں کرے گا۔

اپوزیشن لیڈروں کے مطابق مہاراشٹر، تمل ناڈو اور بہار جیسی ریاستوں کا مسئلہ حل ہو گیا ہے جبکہ دیگر ریاستوں جیسے دہلی، پنجاب اور مغربی بنگال میں چیلنج ہونے کا امکان ہے۔

شرد پوار نے کہا کہ ملک میں اس طرح کی کانفرنسیں پہلے بھی دو بار ہو چکی ہیں۔ ایسا وزیر اعظم اندرا گاندھی کے دور میں بھی ہوا۔ اب یہ کانفرنس تیسری مرتبہ ملک میں منعقد ہو رہی ہے۔ پہلی دو کانفرنسوں میں دنیا بھر سے لوگ آئے تھے لیکن تب ماحول آج جیسا نہیں تھا۔

شرد پوار کے گروپ کی طرف سے داخل کردہ حلف نامہ کے بعد مہاراشٹر کے سیاسی حلقوں میں یہ کہا جا رہا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ ستمبر کے آخر یا اکتوبر کے شروع میں آ سکتا ہے۔ جولائی میں تقسیم کے بعد اجیت دھڑے نے الیکشن کمیشن میں نشان اور پارٹی پر دعویٰ کیا تھا۔