Bharat Express DD Free Dish

Sharad Pawar

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو فون کرکے ان کی صحت کا حال دریافت کیا۔ اسپتال سے چھٹی ملنے کے بعد پوار ممبئی واپس لوٹ آئے ہیں، تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس گفتگو نے مہاراشٹر کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

دونوں گروپوں کے ایک ہونے کی بحث کے ساتھ سب سے بڑا سوال پارٹی کی قیادت سے متعلق ہے۔ اگراین سی پی کے دونوں گروپوں کا انضمام ہوتا ہے توپارٹی کی کمان کس کے ہاتھ میں ہوگی؟ کیا شرد پواردوبارہ پارٹی کی مرکزی قیادت کا کردارادا کریں گے؟ کیا سنیترا پوارکوتنظیم میں موجودہ حیثیت حاصل رہے گی؟ ساتھ ہی پرفل پٹیل اورسپریا سولے کا کردارکیا ہوگا؟

مہاراشٹر کے سیاسی گلیارے میں قیاس آرائیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں اور اس کی وجہ آج این سی پی (ایس پی) کے سبھی 8 اراکین پارلیمنٹ کی وزیراعظم مودی سے ہونے والی ملاقات ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ شرد پوار اوربی جے پی کے درمیان آخرکارکیا رضامندی بن رہی ہے۔

این سی پی کے شرد پوار دھڑے کی کارگزار صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے خود اس ممکنہ ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ تاہم، ابھی تک اس ملاقات کا حتمی ایجنڈا باضابطہ طور پر سامنے نہیں آیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ملاقات میں مہاراشٹر کی ترقی، مرکزی حکومت سے متعلق منصوبوں اور ریاست کے مفادات سے جڑے اہم معاملات پر بات چیت ہوسکتی ہے۔

این سی پی اور این سی پی-ایس پی کے اتحاد کے بارے میں بات چیت کے درمیان، شرد پوار نے واضح کیا ہے کہ دونوں گروپ کے انضمام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ شرد پوار کے بیان سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ چچا-بھتیجے کے دونوں گروپوں کے ساتھ آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران وزیر اعظم مودی، شرد پوار اور سپریا سولے کی مسکراتی ہوئی تصاویر سامنے آنے کے بعد سیاسی قیاس آرائیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ مجوزہ حلقہ بندی (پریسیمن) بل پر حکومت کو این سی پی (ایس پی) کے آٹھ اراکین پارلیمنٹ کی حمایت درکار ہو سکتی ہے،

 شرد پوار کی بیٹی سپریا سولے نے این ڈی اے میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں کو پوری طرح سے خارج کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی انڈیا الائنس کے ساتھ مل کرہی بڑے سیاسی فیصلے لے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حد بندی سے متعلق ابھی تک مرکزی حکومت کی طرف سے کوئی باضابطہ بل یا تجویز سامنے نہیں آئی ہے۔

 شیوسینا (یوبی ٹی) کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے راوت نے کہا کہ شرد پوارسے ہمارے اچھے تعلقات ہیں، لیکن ہمارے لئے'غداری' کا مطلب 'غداری' ہے۔ شرد پوار یقینی طور پر بڑے اور محترم لیڈر ہیں، لیکن جن لوگوں نے ان کی حکومت گرائی، ان کے دفتر میں جاکر میٹنگ کرنا کسی بڑے لیڈر کے بھروسے کو کم کرتا ہے۔

مہاراشٹر کانگریس کے سینئرلیڈر نانا پٹولے نے کہا کہ انضمام سے متعلق کوئی تبادلہ خیال نہیں ہے۔ یہ افواہ ہے۔ وہیں، سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ انہوں نے یہ خبریں اخبارمیں دیکھی ہیں، لیکن انفرادی طورپرکچھ نہیں معلوم ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ ضرورکہا تھا کہ جن بھی پارٹیوں نے اپنے نام سے کانگریس نہیں ہٹایا، چاہے وہ ترنمول ہویا این سی پی ہو، انہیں واپس گھر لوٹنا چاہئے۔

 کانگریس میں شرد پوار کی پارٹی کے انضمام سے متعلق مہاراشٹرکانگریس کے سینئرلیڈر وجے ویڈیٹّی وار نے بڑا دعویٰ کردیا ہے۔ مہاراشٹر کانگریس کے سینئر لیڈر وجے ویڈیٹّی وار نے تصدیق کی ہے کہ کانگریس اور این سی پی (شرد پوارگروپ) کے درمیان انضمام سے متعلق ہائی کمان سطح پربات چیت چل رہی ہے۔