Bharat Express DD Free Dish

Saudi Arabia

سال 1999 میں شیخ عبدالعزیز آل الشیخ کو متفی اعظم کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ انہوں نے مملکت میں اعلیٰ ترین مذہبی اسکالر کے طورپر خدمات انجام دیں، شریعت کی تشریح اور قانونی اور معاشرتی امور پر فتوے جاری کئے۔

مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے امیر مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے کہا کہ فلسطین کے حق میں ہرکسی کو آوازاٹھانی چاہئے۔ انہوں نے سعودی عرب کے تعاون اورکردار سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ مظلومین کے تعاون کے لئے ہاتھ بڑھایا ہے۔ سعودی عرب فلسطین کے تعاون کے لئے سب سے آگے رہا ہے اور ہمیشہ اس نے قضیہ فلسطین کی بات کی ہے۔

سیزنل انتظامی کمیٹیوں کے ذریعے ان خلاف ورزی کرنے والوں، ان کے مدد گاروں اور بغیر اجازت حج کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف انتظامی فیصلے جاری کیے گئے ہیں جن میں قید کی سزائیں، ایک لاکھ ریال تک جرمانے، خلاف ورزی کرنے والوں کی تشہیر، اور غیر ملکیوں کی سزا مکمل ہونے کے بعد ملک بدر کر کے دس سال کے لیے سعودی عرب میں داخلے پر پابندی شامل ہے

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس وقت سعودی عرب میں ہیں۔ وہ بدھ کے روز شام کے موجودہ صدر احمد الشرع سے سعودی عرب میں ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کو کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پھردوہرایا ہے کہ ہندوستان اورپاکستان کے درمیان امریکہ نے سیز فائر کروایا تھا۔ سعودی عرب کے دورہ پرگئے ٹرمپ نے یہ بات آج ریاض میں کہی ہے۔

سعودی معیشت کی میکرو اکنامک بنیادوں کا استحکام مملکت کی سرمایہ کاری کی کشش کے اہم ترین عوامل میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اگلے 4 برس میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کی طرف اشارہ کیا۔

صدرڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب پہنچے ہیں۔ وہ اپنے چار روزہ غیر ملکی دورے کے دوران سعودی عرب کے ساتھ ساتھ خلیج کے دوسرے ملکوں، متحدہ عرب امارات اور قطر بھی جائیں گے۔

یہ دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک اب عالمی سطح پر ایک اہم جغرافیائی و سیاسی مقام کے حامل ہیں۔ نہ صرف وہ علاقائی استحکام کے لیے ایک مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، بلکہ اپنی مضبوط معیشت اور اصلاحاتی رجحانات کی بنا پر بھی توجہ کا مرکز ہیں۔

یہ اسکالرشپ پی ایچ ڈی کے مختلف شعبہ جات میں تعلیم حاصل کرنے والے امیدواروں کے لیے کھلی ہے۔ منتخب امیدواروں کو مکمل ٹیوشن فیس معافی، ماہانہ وظیفہ، مفت رہائش، اور جامع طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ بین الاقوامی طلباء کو منتقلی کے لیے سہولیات اور گریجویشن کے بعد سعودی عرب میں ایک سال تک قیام کی اجازت بھی دی جائے گی تاکہ وہ ملازمت کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔

اس سال تقریباً 89,000 پاکستانی عازمین حج سرکاری اسکیم کے تحت سعودی عرب جائیں گے جبکہ 23,620 نجی ٹور آپریٹرز کے ذریعے روانہ ہوں گے۔ ان میں سے 50,500 مسافر سعودی عرب کے مکہ روٹ اقدام سے مستفید ہوں گے جن میں سے 22,500 کراچی اور 28,000 اسلام آباد سے پرواز کریں گے۔