Bharat Express DD Free Dish

Saudi Arabia

وزیراعظم نریندر مودی کا اپریل کے آخر میں متوقع سعودی عرب کا دورہ، بدلتی عالمی سیاست کے تناظر میں، ہند-سعودی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی ایک اور کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کی طرف سے حج پرجانے والے ہندوستانی عازمین حج کے لئے طے شدہ تقریباً 52 ہزار حج سلاٹ کو منسوخ کئے جانے کی رپورٹ کے بعد اپوزیشن کے کئی لیڈران نے تشویش کا اظہارکیا ہے۔ اپوزیشن نے مرکزی حکومت سے اس معاملے میں سعودی عرب کے سامنے اس موضوع کو اٹھانے کی اپیل کی ہے۔

ہندوستان اور سعودی عرب کے مضبوط تعلقات کے سبب 2025 کے سفرحج کو آسان بنانے میں کامیابی ملی ہے۔ حج کوٹے میں اضافہ، بہتر سہولیات اور سرکاری کوششوں سے عازمین حج کو راحت ملی ہے۔ پرائیویٹ ایجنٹوں کی پریشانی کے باوجود ہندوستانی حکومت نے سفارتی کوششوں کے ذریعے 10,000 مسافروں کے اضافی داخلے کو یقینی بنایا ہے۔

حج منتظمین نے وزیر اعظم شہباز شریف سے معاملے میں مداخلت کرنے اور مسئلہ حل کرنے میں مدد کی اپیل کی ہے۔ وہیں، وزیراعظم نواز شریف نے نجی حج کوٹہ میں کمی کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے نجی حج کوٹہ حاصل کرنے میں ناکامی کے ذمہ داروں کی نشاندہی کے لیے تین رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

عمرہ پر گئے میرٹھ کے علی مرتضیٰ نے ایک ویڈیو جاری کرکے بتایا ہے کہ وہ سعودی عرب میں پھنس گئے ہیں اور مبینہ طور پر انہیں دہشت گرد تنظیم میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا- میرا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا ہے، اب میری جان کو خطرہ ہے۔

سعودی وزیرِخارجہ فیصل بن فرحان نے جنوبی ترکیہ میں اپنے علاقائی ہم منصبوں کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد کہا، میں غزہ کی پٹی میں امداد کی مسلسل اورمناسب روانی کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ کے استعمال کا مطالبہ کرتا ہوں۔

ذرائع کے مطابق پابندی کے باوجود سعودی عرب میں قیام پر 5 سال کی پابندی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ سفارتی ذرائع نے بتایاکہ سعودی حکومت نے بیشتر ممالک کوباضابطہ طور پر فیصلے سے آگاہ کردیاہے۔

معتکفین کی سہولت کے لیے مکمل طبی سہولیات، افطار، عشائیہ اور سحری کی فراہمی، موبائل چارجنگ اسٹیشنز، اور سامان رکھنے کے لیے لاکرز کی دستیابی۔ یہ انتظامات مسجد نبوی میں آنے والے معتکفین کی عبادات کو مزید پر سکون اور سہل بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔

سوڈانی بحران کا حل لڑائی کو روکنے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ردعمل کو مضبوط بنانے میں ہے: سعودی عرب

امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو 100 ملین ڈالر کی تخمینہ لاگت کے جدید ترین اور سٹیک نشانے پر مارنے والے ہتھیاروں کے نظام کی پہلی فروخت کو منظوری دے دی ہے۔