Bharat Express DD Free Dish

Saudi Arabia

طے پروگرام کے مطابق، وزیراعظم مودی کو کل رات ہندوستان لوٹنا تھا، لیکن کشمیرمیں خطرناک دہشت گردانہ حملہ کی وجہ سے شیڈول تبدیل کردیا گیا ہے اوروہ اب بدھ کی صبح ہندوستان پہنچ جائیں گے۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اوروزیراعظم نریندرمودی کے درمیان جو میٹنگ ہوئی تھی، اس کی شروعات میں 22 اپریل، 2025 کو ہوئے دہشت گردانہ حادثہ کا ذکرہوا اورسعودی ولی عہد نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔

سعودی قیادت کی مسلسل حمایت کے لیے شکریہ ادا کرتے ہوئے، خارجہ سکریٹری وکرم مصری نے ہفتے کے روز کہا کہ سعودی عرب ہزاروں ہندوستانی شہریوں کو سالانہ حج اور عمرہ کے لیے سفر کی سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سالانہ حج اور عمرہ ہندوستان-سعودی باہمی تعلقات کا ایک اہم جزو ہیں، ہندوستان کا حج کوٹہ 1,75,025 عازمین ہے

وزیر اعظم نریندر مودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کی دعوت پر اگلے ہفتے سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ وزارت خارجہ کے مطابق یہ دورہ 22-23 اپریل تک ہوگا۔

وزیراعظم نریندر مودی کا اپریل کے آخر میں متوقع سعودی عرب کا دورہ، بدلتی عالمی سیاست کے تناظر میں، ہند-سعودی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی ایک اور کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کی طرف سے حج پرجانے والے ہندوستانی عازمین حج کے لئے طے شدہ تقریباً 52 ہزار حج سلاٹ کو منسوخ کئے جانے کی رپورٹ کے بعد اپوزیشن کے کئی لیڈران نے تشویش کا اظہارکیا ہے۔ اپوزیشن نے مرکزی حکومت سے اس معاملے میں سعودی عرب کے سامنے اس موضوع کو اٹھانے کی اپیل کی ہے۔

ہندوستان اور سعودی عرب کے مضبوط تعلقات کے سبب 2025 کے سفرحج کو آسان بنانے میں کامیابی ملی ہے۔ حج کوٹے میں اضافہ، بہتر سہولیات اور سرکاری کوششوں سے عازمین حج کو راحت ملی ہے۔ پرائیویٹ ایجنٹوں کی پریشانی کے باوجود ہندوستانی حکومت نے سفارتی کوششوں کے ذریعے 10,000 مسافروں کے اضافی داخلے کو یقینی بنایا ہے۔

حج منتظمین نے وزیر اعظم شہباز شریف سے معاملے میں مداخلت کرنے اور مسئلہ حل کرنے میں مدد کی اپیل کی ہے۔ وہیں، وزیراعظم نواز شریف نے نجی حج کوٹہ میں کمی کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے نجی حج کوٹہ حاصل کرنے میں ناکامی کے ذمہ داروں کی نشاندہی کے لیے تین رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

عمرہ پر گئے میرٹھ کے علی مرتضیٰ نے ایک ویڈیو جاری کرکے بتایا ہے کہ وہ سعودی عرب میں پھنس گئے ہیں اور مبینہ طور پر انہیں دہشت گرد تنظیم میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا- میرا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا ہے، اب میری جان کو خطرہ ہے۔

سعودی وزیرِخارجہ فیصل بن فرحان نے جنوبی ترکیہ میں اپنے علاقائی ہم منصبوں کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد کہا، میں غزہ کی پٹی میں امداد کی مسلسل اورمناسب روانی کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ کے استعمال کا مطالبہ کرتا ہوں۔

ذرائع کے مطابق پابندی کے باوجود سعودی عرب میں قیام پر 5 سال کی پابندی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ سفارتی ذرائع نے بتایاکہ سعودی حکومت نے بیشتر ممالک کوباضابطہ طور پر فیصلے سے آگاہ کردیاہے۔