Bharat Express DD Free Dish

saudi arab

فورم کے دوران ایک الگ پینل بحث میں بات کرتے ہوئے، الفالح نے کہا کہ شام مسلسل چیلنجز کے باوجود سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام کے طور پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا، "شام تمام تر چیلنجز کے باوجود سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ملک کے طور پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

سعودی ولی عہد اور قطری امیر کے درمیان یہ رابطہ علاقائی اتحاد کو مضبوط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ سعودی عرب اور قطر کے تعلقات 2021 میں خلیجی بحران کے خاتمے کے بعد سے بہتر ہوئے ہیں، جب سعودی عرب نے قطر پر عائد سفارتی اور اقتصادی پابندیاں ختم کی تھیں۔

یہ کامیابیاں ہمارے نوجوانوں اور خواتین کے عزم کے بغیر ممکن نہیں تھیں جنہوں نے محنت، تخلیقی صلاحیتوں اور قوم کے لیے لگن کا ایک مثالی نمونہ قائم کیا ہے۔ ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں مملکت کی کامیابیوں نے اسے تبدیلی اور ترقی کے لیے ایک عالمی نمونہ بنا دیا ہے۔

سعودی عرب کی طرف سے حج پرجانے والے ہندوستانی عازمین حج کے لئے طے شدہ تقریباً 52 ہزار حج سلاٹ کو منسوخ کئے جانے کی رپورٹ کے بعد اپوزیشن کے کئی لیڈران نے تشویش کا اظہارکیا ہے۔ اپوزیشن نے مرکزی حکومت سے اس معاملے میں سعودی عرب کے سامنے اس موضوع کو اٹھانے کی اپیل کی ہے۔

ادھر اسرائیل کے ظلم اور بربریت کے شکار فلسطین میں بھی عیدالفطر آج منائی جارہی ہے، بے گھر فلسطینی مسلمان کھلے آسمان تلے، خوراک کی شدید قلت اور بے پناہ مسائل کے دوران عیدالفطر منا رہے ہیں، مسجد اقصیٰ میں نماز عیدالفطر کا اجتماع ہوا۔

نئے رہنما اصولوں کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری صرف لسٹڈ کمپنیوں کے حصص یا قابل تبدیلی قرضے تک محدود ہے۔ کسی بھی کمپنی کے حصص میں مجموعی غیر سعودی ملکیت، جس میں افراد اور قانونی ادارے شامل ہیں، کو 49 فیصد تک محدود رکھا گیا ہے۔

سعودی عرب میں اس سال 100 سے زیادہ غیرملکی شہریوں کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔ سعودی عرب دنیا کا ایسا ملک ہے، جہاں پرسب سے سخت قانون نافذ ہے۔ اپنے قوانین کی وجہ سے کئی بارسعودی عرب کو بین الاقوامی سطح پرتنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی غزہ اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کو رکوانے کی کوششوں پر بات چیت کے لیے بدھ کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچ گئے۔سعودی الاخباریہ چینل نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی فوٹیج نشر کی ہے، جو ریاض میں ایرانی وزیر اور ان کے وفد کا استقبال کر رہے ہیں۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان گذشتہ ہفتے زور دے کر یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہر گز قائم نہیں کرے گا۔ سعودی مجلس شوری کی کارروائیوں کا افتتاح کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کا مسئلہ ان کے ملک کی توجہ میں سرفہرست ہے۔

شہزادہ فیصل نے کہا کہ سعودی عرب مستقبل کے لیے چارٹر کے مسودے کے لیے ہونے والی بات چیت میں مؤثر طریقے سے شرکت کرنے کی خواہش مند ہے۔ مستقبل کے لیے چارٹر کا مسودہ موجودہ اور مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے زیادہ موثر اور بااثر ہونا چاہیے۔