Bharat Express DD Free Dish

saudi arab

 سعودی عرب نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پرنئے فوجی حملے نہیں کرنے کی اپیل کی ہے۔ اسے خوف ہے کہ جنگ بڑھنے سے آبنائے ہرمز، عالمی تیل فراہمی اوراس کے وژن 2030 منصوبے پرسنگین اثرپڑسکتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی تجارت کومتاثرکیا ہے، جس سے شپنگ لائنیں متاثرہوئی ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کے موانی نے جدہ اسلامی بندرگاہ سے انڈیا (مندرا) اورجبوتی کے لئے ایک نئی شپنگ سروس شروع کی ہے۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے پورے مڈل ایسٹ کے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ فضائی حدود بند ہو گئی ہیں، سفارت خانوں پر حملے ہوئے اور تیل و گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ خلیجی ممالک سے لے کر لبنان تک اس تنازعے کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

ایران، امریکہ اوراسرائیل کے درمیان بڑھتی فوجی کارروائی کے سبب پورے مڈل ایسٹ میں حالات کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔ مسلسل ہو رہے حملوں اور جوابی کارروائی سے علاقے میں بڑے جدوجہد کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ اس درمیان سعودی عرب کی راجدھانی ریاض واقع امریکی سفارت خانہ پر ایران کے ذریعہ ڈرون سے حملہ کئے جانے کی خبرسامنے آئی ہے۔

ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران سعودی آرامکو پر حملے کی خبروں نے بین الاقوامی تیل بازار میں ہلچل مچا دی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔

سعودی عرب، ترکیہ اورپاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد غزہ میں مستقل جنگ بندی اورانتظامی نظام قائم کرنا ہے۔ حالانکہ اسرائیل نے اس پرناراضگی کا اظہارکیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر جاری تنازع نے وسیع تر علاقائی عدم استحکام کے خدشات کو نئے سرے سے جنم دیا ہے۔ افغانستان نے اسلام آباد پر فضائی حملوں اور جوابی کارروائی کا الزام لگایا ہے۔ تاہم، اب تک، سعودی عرب نے عوامی طور پر تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی سے گریز کریں اور بات چیت کو ترجیح دیں۔

سال 1999 میں شیخ عبدالعزیز آل الشیخ کو متفی اعظم کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ انہوں نے مملکت میں اعلیٰ ترین مذہبی اسکالر کے طورپر خدمات انجام دیں، شریعت کی تشریح اور قانونی اور معاشرتی امور پر فتوے جاری کئے۔

غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارتِ صحت نے پیر کے روز اعلان کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قحط اور غذائی قلت کے باعث مزید 9 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، جن میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔ وزارت نے اپنے بیان مزید بتایا کہ "یوں قحط کے شکار جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 348 ہوگئی ہے، جن میں 127 بچے ہیں۔

فرانس نے فلسطین کوعلیحدہ ملک تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے اسرائیل اورنیتن یاہوحکومت کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ اس فیصلے میں سعودی ولی عہد نے بڑا کردارادا کیا ہے۔ محمد بن سلمان نے فلسطین کوتسلیم کرانے کے لیے فرانسیسی صدرسے فون پربات کی تھی۔