Bharat Express DD Free Dish

RJD

استھاواں کا گیلانی گاؤں اپنی منفرد شناخت کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں کے آم ملک اور بیرون ملک مشہور ہیں۔ اس گاؤں کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ چاہے ہندو ہوں یا مسلمان، تقریباً سب لوگ اپنے نام کے آگے ’گیلانی‘ بطور خاندانی نام استعمال کرتے ہیں۔

بہار اسمبلی میں مسلم اراکین کی تعداد کبھی بھی 10 فیصد سے زیادہ نہیں رہی، سوائے 1985 کے جب بہار غیر منقسم تھا۔ اُس وقت 324 رکنی اسمبلی میں 34 مسلم اراکین منتخب ہوئے تھے۔ 2020 کے الیکشن میں صرف 19 مسلم امیدوار کامیاب ہو سکے۔

بہار اسمبلی انتخابات 2025 کی ووٹنگ کی تاریخ قریب آرہی ہے۔ اس درمیان جن سوراج کے بانی پرشانت کشور نے انتخابی نتائج کو لے کر اپنا اوپینین پول دیا ہے۔ آیئے جانتے ہیں کہ انہوں نے کس پارٹی کو کتنی سیٹیں دی ہیں۔

بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے لوک گیتوں کی مشہور گلوکارہ میتھلی ٹھاکر کو علی نگر سیٹ سے امیدوار بنایا ہے۔ تاہم یہاں سے ان کا جیت پانا آسان نہیں ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ ان کو یہاں پر کون کون سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟

سابق رکن پارلیمنٹ سورج بھان سنگھ نے آر ایل جے پی چھوڑ کر آر جے ڈی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ان کی اہلیہ وینا دیوی کو موکاما سے امیدوار بنائے جانے کی بات ہو رہی ہے۔ جے ڈی یو نے اننت سنگھ کو ٹکٹ دیا ہے، جس سے اس سیٹ پر مضبوط امیدواروں کے درمیان مقابلہ طے ہو گیا ہے۔

بہار اسمبلی الیکشن 2025 کے لیے آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے بدھ کو راگھوپور اسمبلی سیٹ سے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ تیجسوی یادو اس سیٹ سے ہیٹ ٹرک بنانے کی کوشش میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ صرف حکومت بنانا چاہتے ہیں بلکہ بہار کو خوشحال بھی بنانا چاہتے ہیں۔

اسمبلی انتخابات 2025 میں کشن گنج کی بہادرگنج نشست پر سیاسی مقابلہ دلچسپ ہو گیا ہے۔

بہارکے سابق وزیر اعلیٰ تیجسوی یادوآج دہلی آسکتے ہیں۔ امکان ہے کہ راہل گاندھی سے ملاقات کریں گے اورعظیم اتحاد میں سیٹوں کی تقسیم سے متعلق تبادلہ خیال کرکے انتخابی تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے آئندہ بہار کے دورے پر تیجسوی یادو نے کہا کہ انتخابات ہیں اس لیے آرہے ہیں، انتخابات تک جملا کریں گے اور انتخابات کے بعد بھول جائیں گے۔ یہی کام ان لوگوں کا ہے۔

پچھلے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے 70 نشستوں پر مقابلہ کیا تھا جن میں سے 19 جیتی تھیں۔اس بار کانگریس کو تقریباً 58 نشستیں دیے جانے کا امکان ہے۔تاہم، پارٹی کا زور صرف تعداد پر نہیں بلکہ "مضبوط نشستوں" پر ہے