Bharat Express DD Free Dish

RJD

بہار اسمبلی انتخابات سے پہلے ووٹرلسٹ کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) میں بڑے پیمانے پربے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے آرجے ڈی لیڈرتیجسوی یادونے الیکشن کمیشن پربی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کی دھمکی بھی دی ہے اورعوام کی رائے جاننے کی بات کہی ہے۔

راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) سربراہ لالو پرساد یادو کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ یادو نے بڑا الٹی میٹم دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مجھے ٹکٹ نہیں دیا گیا تو آرجے ڈی مہوا سے ہارجائے گی۔ اس کے ساتھ ہی تیج پرتاپ یادو نے اعلان کردیا ہے کہ وہ مہوا سے ہی الیکشن لڑیں گے۔

جے ڈی یو کے ایم ایل اے ونے چودھری نے آر جے ڈی ایم ایل اے کی طرف سے لاء اینڈ آرڈر کو لے کر ’کالا کپڑا‘ پہن کر احتجاج کرنے پر طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو اب اپنے منہ پر بھی کالکھ پوت لینی چاہئے، کیونکہ انہیں ریاست کے امن و امان پر سوالیہ نشان لگانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے

آرجے ڈی کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے سوال اٹھایا کہ الیکشن کمیشن کوغیرجانبدارہونا چاہئے، لیکن کسی کے اشارے پرکمیشن نے اپنے طریقہ کارکو پوری طرح سے بدل لیا ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ 21ویں صدی میں دنیا بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ وہ طاقت جو کبھی صرف مغربی ممالک کے پاس تھی، اب اس میں مشرق کے ممالک کا غلبہ اور شراکت بڑھ رہی ہے۔ مشرق کے ممالک اب ترقی کی نئی رفتار پکڑ رہے ہیں۔ جس طرح دنیا کے مشرقی ممالک ترقی کی دوڑ میں آگے جا رہے ہیں، ویسے ہی ہندوستان میں یہ دور ہماری مشرقی ریاستوں کا ہے۔

پوسٹر کے چاروں طرف، بہار میں حال ہی میں ہوئے آٹھ قتل معاملوں کا تاریخ کے ساتھ ذکر کیا گیا تھا، جس میں مقتول کی تصویریں بھی لگائی گئیں۔ پوسٹر میں سب سے پہلے مشہور صنعت کار گوپال کھیمکا کی تصویر کے ساتھ ان کے قتل کی تاریخ لکھی ہوئی تھی۔

بہارمیں اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدراخترالایمان نے آرجے ڈی سربراہ لالوپرساد یادوکوخط لکھا تھا۔ اس میں اے آئی ایم آئی ایم کو عظیم اتحاد میں شامل کرنے کی گزارش کی تھی۔ اس خط میں کہا گیا تھا کہ آپ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ 2015 سے بہار کی سیاست میں اے آئی ایم آئی ایم اپنا سرگرم کردارنبھا رہی ہے۔

تیجسوی یادو نے لکھا کہ گزشتہ دو اسمبلی انتخابات میں کلوز مارجن سے ہار یا جیت والی سیٹوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 2015 کے اسمبلی انتخابات میں 3000 سے کم ووٹوں سے ہار یا جیت والی کل 15 سیٹیں تھیں، جبکہ 2020 میں ایسی 35 سیٹیں تھیں، اگر 500 سے کم فرق سے ہار یا جیت والی سیٹوں کی تعداد پر نظر ڈالیں تو 2015 میں 23 سیٹیں تھیں اور 2020 میں ایسی کل 52 سیٹیں تھیں۔

آرجے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے الیکشن پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن خود سامنے نہیں آنا چاہتا، اس لئے سوتروں (ذرائع) کے حوالے سے خبرپلانٹ کررہا ہے۔ یہی وہی ذرائع ہیں، جنہوں نے لاہور اور کراچی پر قبضہ کر لیا تھا۔

پٹنہ کے پپرا علاقے میں ہفتہ کو پٹنہ کے پپرا تھانہ علاقے کے شیخ پورہ گاؤں میں 50 سال کے سریندر کمار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ موٹر سائیکل پر سوار دو بدمعاشوں نے اس واردات کو انجام دیا۔ پولیس کے مطابق اہل خانہ کی تحریری شکایت کے بعد مقدمہ درج کرکے مزید کارروائی کی جائے گی۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج کر معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔